عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل 104.10 ڈالر جبکہ برینٹ خام تیل 109.20 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔
امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 4.01 ڈالر یعنی 4.01 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برینٹ خام تیل 4.56 ڈالر یعنی 4.36 فیصد مہنگا ہوا ہے۔
اماراتی مربان خام تیل کی قیمت میں اس سے بھی زیادہ تیزی دیکھی گئی اور یہ 11.75 ڈالر یعنی 9.84 فیصد اضافے کے بعد 131.20 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب قدرتی گیس کی قیمت 2.865 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رہی، جس میں 0.034 ڈالر اضافہ ہوا۔
عالمی قیمتوں کا پاکستان پر براہ راست اثر
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا براہ راست اثر پاکستان کے درآمدی بل اور مقامی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل، فریٹ، انشورنس اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ مقامی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔
پاکستان میں حالیہ دنوں میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، 12 ستمبر سے پیٹرول کی قیمت 375.82 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 403.32 روپے فی لیٹر مقرر ہے، بارہ ستمبر کو پیٹرول میں 5.02 روپے جبکہ ڈیزل میں 5.28 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
عالمی تیل مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ جائزے کا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے روزانہ عالمی قیمتوں اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر قیمتوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں عالمی خام تیل کی قیمتیں اگر بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو پاکستان میں بھی آئندہ قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
حکومت کا عوام کو ریلیف دینے کا اقدام
بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے، اس اسکیم چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو فی لیٹرسو روپے رعایت ملے گی۔
یوں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں موجودہ تیزی پاکستان کے لیے دوہرا دباؤ پیدا کر رہی ہے، ایک طرف درآمدی تیل کا بل بڑھنے کا خدشہ ہے جبکہ دوسری جانب مقامی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔



