حکومت نے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کیلئے موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ تقریباً 2 ہزار روپے معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے موٹرسائیکل سواروں کیلئے ریلیف اسکیم شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اسکیم ابتدائی طور پر 3 ماہ کے لیے شروع کی جائے گی جبکہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور فنڈز کی دستیابی کو دیکھتے ہوئے اس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت موٹرسائیکل مالکان کو تقریباً 2 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دینے پر غور کررہی ہے تاکہ پیٹرول کی غیر معمولی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کسی حد تک کم کیے جاسکیں تاہم حتمی رقم کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔
حکومت اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر 106 روپے ٹیکس وصول کررہی ہے جو پیٹرول کی مجموعی قیمت کا تقریباً 28 فیصد بنتا ہے جبکہ ڈیزل پر فی لیٹر 101 روپے ٹیکس عائد ہے جو مجموعی قیمت کا تقریباً 25 فیصد ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ مرتبہ بھی موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیے گئے تھے اس لیے اس بار بھی اسی رقم کی پیشکش کی جاسکتی ہے تاہم اگر ریلیف صرف موٹرسائیکل مالکان تک محدود رکھا گیا تو اس سے مجموعی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد نہیں ملے گی کیونکہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے چھوٹی گاڑیوں کے مالکان اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد بھی متاثر ہورہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی موجودہ قیمتوں میں 2 ہزار روپے کا ماہانہ ریلیف تقریباً 5 لیٹر پیٹرول کے برابر بنتا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد عوام پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے حل تلاش کرنے کیلئے اجلاس بھی کیے ہیں۔ رواں ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر سے زائد کا غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی نے بھی پیٹرولیم مصنوعات پر عائد غیر معمولی لیوی کم کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔
وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ریلیف یقینی بنانے کیلئے تفصیلات کوحتمی شکل دی جارہی ہیں۔
وزارت پیٹرولیم کے تحفظات برقرار
دوسری جانب پیٹرولیم لیوی کم کرنے کے معاملے پر وزارت پیٹرولیم کے تحفظات برقرار ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بعض وفاقی وزارتوں نے تجویز دی تھی کہ پیٹرولیم لیوی کم کرکے اس کے نتیجے میں ہونے والی آمدن میں کمی کو رواں مالی سال کیلئے مختص 430 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز سے پورا کیا جائے تاہم وزارت خزانہ نے اس تجویز کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام پر اثر پڑ سکتا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ہنگامی فنڈز پٹرولیم لیوی کم کرنے کیلئے مختص نہیں کیے گئے۔
علاوہ ازیں آئی ایم ایف کی تیسری جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجٹ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے دوران ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مناسب مالی ذخیرہ رکھنا ضروری ہے۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے ممکنہ اثرات سے پیدا ہونے والے مالی خطرات بھی شامل ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، اس لیے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کرنے کا جواز موجود ہے اور اس اقدام پر آئی ایم ایف کی جانب سے اعتراض بھی ضروری نہیں۔
گزشتہ مالی سال پارلیمنٹ نے 389 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز کی منظوری دی تھی۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق اس فنڈ میں سے مجموعی طور پر 276 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ 113 ارب روپے بچ گئے۔
ذرائع کے مطابق 276 ارب روپے کا بڑا حصہ ان مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوا جن کیلئے یہ مختص کیا گیا تھا جبکہ بعض فنڈز وزیراعظم کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے بھی منتقل کیے گئے۔
گزشتہ مالی سال وزارت خزانہ نے ہنگامی فنڈ سے 113 ارب روپے بچانے کے ساتھ پٹرولیم لیوی کی مد میں صارفین سے 100 ارب روپے اضافی بھی وصول کیے۔ یوں مجموعی طور پر 213 ارب روپے ایسے تھے جنہیں پیٹرولیم لیوی کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا تاہم وزارت خزانہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو درپیش ٹیکس کمی کے اثرات کسی حد تک پورا کرنے کیلئے صارفین پر مزید بوجھ ڈالا۔



