راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران فیصلہ کرلیں، سیدھے طریقے سے پٹرولیم لیوی ختم کرنی ہے یا پورے حکومتی بندوبست کو ملیا میٹ کرانا ہے؟
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے راولپنڈی مری روڈ پر دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم گولی اور گالی پر یقین نہیں رکھتے، پرامن اور جمہوری طریقے سے 20 ستمبر کو اسلام آباد آئیں گے اور عوام کو حق دلائیں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران پٹرولیم لیوی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے 25 کروڑ عوام کی توہین کی ہے۔ حکمرانوں کو فی لیٹر 130 روپے کا ’’غنڈہ ٹیکس‘‘ ختم کرنا پڑے گا اور قوم کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ لاہور، پشاور اور کراچی سمیت ملک کے 40 مقامات پر دھرنے جاری ہیں اور ہر روز مزید تین دھرنوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنٹینر اور ٹرک جماعت اسلامی کا راستہ نہیں روک سکتے، حکومت نے جو کرنا ہے کرلے۔ حکمران مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں تو جاری رکھیں، تاہم مذاکرات کے نام پر ڈرامہ قبول نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پیٹرولیم لیوی میں کمی کی جائے اور عوام سے سالانہ 1567 ارب روپے وصول کرنا بند کیا جائے، ایف بی آر اپنے اہداف پورے کرے اور سود کی لعنت ختم کی جائے۔
انہوں ںے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا صوبائی محکموں کے لیے بجٹ مختص کرنے کا کوئی جواز نہیں، حکمران اپنی مراعات ختم کریں، ان اقدامات سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمیں یہ نہ بتایا جائے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی مجبوری ہے، حکمرانوں کو اپنی شاہ خرچیاں جاری رکھتے ہوئے یہ مجبوریاں نظر نہیں آتیں۔
مریم نواز کے حکومتی جیٹ طیارے سے بیرون ملک نجی دورے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ قوم کو بتایا جائے کہ ان کے دورہ لندن سے قومی خزانے پر کتنا بوجھ پڑا۔ اگر مریم نواز نے اخراجات اپنی جیب سے کیے ہیں تو تب بھی ان اخراجات کا حساب دیا جائے۔
تعلیم کی صورتحال پر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ کے 49 ہزار اسکولوں میں سے 10 ہزار بھی اس قابل نہیں کہ انہیں اسکول کہا جائے۔ پنجاب میں بھی تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے، نویں جماعت کے نتائج میں 50 فیصد سے زائد بچے فیل ہوئے جبکہ راولپنڈی کے سرکاری اسکولوں میں 60 فیصد بچے فیل ہوئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز نے قوم کے پیسوں سے تعمیر کیے گئے 11 ہزار اسکول فروخت کردیئے، سرکاری اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت کو بیچنا کسی بھی حکومت کے لیے شرم کا مقام ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پورا نظام فرسودہ ہے اور 20 ستمبر کو پورے ملک سے قافلے اسلام آباد کی جانب رواں ہوں گے، عوامی طوفان رکنے والا نہیں، حکومت اس سے قبل ہی ہوش کے ناخن لے اور عوام کو سہولت دے۔



