سعودی عرب نے مختلف خلاف ورزیوں کے باعث 12 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کردیا۔
سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اقامہ، لیبر اور بارڈر سکیورٹی کی مزید 14 ہزار 796 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں اس دوران 12 ہزار 57 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیج دیا گیا۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے (3 سے 9 ستمبر2026) کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار504 اقامہ قانون، 3 ہزار 783 بارڈر سکیورٹی اور 3 ہزار 509 لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 273 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں 55 فیصد ایتھوپین، 44 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ مزید 25 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا جو سرحد پار کر کے مملکت سے ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 21 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ۔
سعودی وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا اسے 15 سال قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطگی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مکہ مکرمہ اور ریاض میں ٹول فری نمبر 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 یا 996 پر مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے، اقامہ یا ورک پرمٹ کے بغیر قیام اور غیر قانونی ملازمت کے خلاف باقاعدگی سے کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کرنے کے بعد قانونی کارروائی اور ملک بدری عمل میں لائی جاتی ہے، جبکہ انہیں رہائش، سفر یا روزگار فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں غیر قانونی داخلے کی روک تھام کے لیے خصوصاً سرحدی علاقوں میں نگرانی کا عمل انتہائی سخت ہے۔


