عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سامنے آئی ہے۔ جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں اضافہ اور جی سیون ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر سے خام تیل اور ڈیزل مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ شامل ہے، تاہم ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے میں تیل کی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچنے کے خدشات کے سبب غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
کاروباری ہفتے کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 35 سینٹ یعنی 0.34 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد برینٹ 101.90 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 62 سینٹ یعنی 0.68 فیصد کم ہوکر 90.49 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں ہونے والا بیشتر اضافہ بھی ختم ہوگیا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی ہفتہ وار قیمت میں 1.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ جی سیون ممالک کا فیصلہ
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر کمی کی ایک اہم وجہ جی سیون ممالک کا فیصلہ ہے، جس کے تحت ہنگامی ذخائر سے مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل مارکیٹ میں جاری کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
Global crude oil prices fell on Monday as the G7’s plan to release 100 million barrels from oil reserves eased supply concerns, while expectations of tighter US monetary policy weighed on prices.
https://t.co/UxXs3RPhnD
#OilPrice #CrudeOil
— MarketForces Africa ® (@MarketforcesA) October 5, 2026
ماہرین کے مطابق ہنگامی ذخائر سے تیل کی دستیابی بڑھنے کے باعث عالمی سپلائی کے حوالے سے فوری خدشات میں کمی آئی ہے، تاہم خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار ہے۔
پاکستان میں دو روز قبل اوگرا کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر پر پہنچ گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔


