فلپائن اور چین میں کشتیوں کے آگ کی لپیٹ میں آنے کے 2 الگ الگ واقعات پیش آئے ہیں جن میں چینی حکام کے مطابق 20 افراد ہلاک جبکہ فلپائن والے واقعے میں کم از کم 5 افراد ہلاک جبکہ 80 سے زائد لاپتا ہوگئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کے مشرقی شہر چنگ ڈاؤ میں مرمت کے لیے کھڑے غیر ملکی کارگو جہاز میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے تاہم حادثے میں لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے اور ممکنہ متاثرین کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
صدر شی نے حادثے کی فوری اور جامع تحقیقات کے ساتھ غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی۔
20 people are dead and 5 remain missing after a foreign-flagged cargo ship caught fire during repairs at Qingdao Beihai Shipbuilding in China on Sept 10. Of the 42 people aboard, 12 evacuated safely and 5 were hospitalized with injuries. All 5 are in stable condition. https://t.co/yWjNTSW59X pic.twitter.com/FNTpETFvuv
— Shanghai Daily (@shanghaidaily) September 10, 2026
متعلقہ حکام نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آگ کس وجہ سے لگی اور جہاز میں مرمت کا کون سا کام جاری تھا۔
فلپائن، گرمی کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات
رائٹرز کے مطابق فلپائن میں آتشزدگی کا واقعہ پالوان ساحل کے قریب مسافر اور کارگو کشتی میں پیش آیا جس کے بعد کوسٹ گارڈ، فوج اور شہریوں کی کشتیاں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری ڈرون فوٹیج میں جلنے والی کشتی کو سمندر میں گھرا دیکھا جاسکتا ہے جبکہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود جہاز سے دھواں اٹھتا رہا۔
کوسٹ گارڈ کی ترجمان کموڈور نومی کایابیاب نے بتایا کہ کشتی میں شدید گرمی اور دھماکوں کے خدشے کے باعث امدادی اہلکار ابھی تک اس پر سوار نہیں ہوسکے۔
ان کے مطابق اب تک 43 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، جن میں چلی کے 2 شہری بھی شامل ہیں۔
فیری منیلا کے بیسکو سے پالوان کے سیاحتی مقام کورون جارہی تھی۔ حکام کے مطابق اس پر 117 مسافر اور 17 عملے کے ارکان سوار تھے جبکہ اس کی گنجائش 330 افراد تھی۔
کوسٹ گارڈ نے امدادی کارروائی کے لیے 44 میٹر طویل 2 کشتیاں اور 3 چھوٹے بحری جہاز بھیجے ہیں، جبکہ فوج کی ریسکیو کشتیاں، مقامی ماہی گیر اور نجی ریزورٹس کے مالکان بھی تلاش میں حصہ لے رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایک مسافر نے بتایا کہ آگ پھیلنے سے قبل کارگو ہولڈ سے زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔ تاہم حکام نے تاحال آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں کی۔
کچھ افراد کو سمندر سے نکالتے وقت ان کے پاس لائف جیکٹس نہیں تھیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آگ پھیلنے کے بعد بعض مسافروں نے جان بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق فیری نے حال ہی میں حفاظتی معائنہ پاس کیا تھا۔ جہاز پر 5 موٹر سائیکلیں، ایک الیکٹرک گاڑی، فورک لفٹ، پک اپ ٹرک اور مختلف کارگو بھی موجود تھا۔
حکام نے واقعے کی جامع تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تخریب کاری یا دہشت گرد حملے کے امکان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔



