چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ایس ایم عتیق شاہ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ تعجب ہے، صاف چلی شفاف چلی حکومت میں بھی بھتے مانگے جا رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے یہ ریمارکس سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کے دوران دئیے۔
پشاور ہائیکورٹ نے کامران بنگش کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے تاحکم ثانی انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
وکیل درخواست گزار نے دلائل دئیے کہ کامران بنگش کو ریڈیو پاکستان کیس میں نامزد کیا گیا ہے جس کے باعث ان کی گرفتاری کا خدشہ ہے۔
چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو تو انہوں نے اے جی آفس سے ہٹایا، اب بھی ان کے لیے پیش ہو رہے ہیں؟ اے جی آفس میں ایک بندہ کام کا تھا، اسے بھی ہٹا دیا۔
سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل انعام یوسفزئی نے کہا کہ ہم نے بھتہ دینے سے انکار کیا، اس لیے ہمیں نکالا گیا تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تعجب ہے صاف چلی شفاف چلی حکومت میں بھی بھتے مانگے جا رہے ہیں۔
صاف چلی، شفاف چلی کیا ہے؟
صاف چلی، شفاف چلی، تحریک انصاف چلی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ ایک سیاسی نعرہ تھا، جسے پارٹی نے اپنی سیاسی مہم اور جلسوں میں استعمال کیا۔
یہ دراصل پی ٹی آئی کے اس سیاسی بیانیے سے جڑا ہوا تھا جس میں کرپشن کے خلاف جدوجہد، احتساب اور شفاف حکمرانی پر زور دیا جاتا تھا۔
پی ٹی آئی کے سیاسی عروج کے دوران یہ نعرہ پارٹی کی شناخت کا حصہ بنا۔ 2018 میں پی ٹی آئی کے وفاقی حکومت بنانے کے بعد بھی یہ نعرہ سیاسی گفتگو میں استعمال ہوتا رہا۔
اس نعرے پر گانا بھی بنایا گیا جو پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں موجود رہا۔
یاد رہے کہ نومبر 2022 میں گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے دوران عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جب کہ عمران خان اور فیصل جاوید سمیت 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس وقت پی ٹی آئی کے ایڈمن منیجر اور ڈی جے حمزہ نے بتایا کہ وہ فائرنگ کے وقت عمران خان کے پیچھے کھڑے تھے، عمران خان نے مجھے ’صاف چلی شفاف چلی‘ کا گانا لگانے کو کہا تھا لیکن جیسے ہی میں گانا لگانے کے لیے نیچے جھکا فائرنگ ہو گئی، میرے پیچھے لگی شیٹ پر فائر لگا تو بلٹ بلاسٹ ہو گئی جس سے میں زخمی ہو گیا۔


