پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں ٹریفک وارڈن کی مبینہ غفلت سے زخمی ہونے والا موٹر سائیکل سوار 5 دن کے بعد چل بسا۔
واقعہ لاہور کے علاقے شادمان میں پیش آیا، وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹریفک پولیس اسسٹنٹ نے بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلانے والے شہری کو روکنے کی کوشش کی۔ ٹریفک اسسٹنٹ موٹرسائیکل سوار کو روکنے کے لیے سڑک کے درمیان آیا تو دونوں حادثے کا شکار ہوگئے۔
شادمان مارکیٹ یوٹرن پر بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سوار کو رکنے کا اشارہ، تیز رفتاری کے دوران ٹریفک اسسٹنٹ سے ٹکرایا، دونوں زخمی۔ موٹرسائیکل سوار زین پانچ روز زیرِ علاج رہنے کے بعد جاں بحق، جبکہ ٹریفک اسسٹنٹ تاحال ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ واقعے کی مزید انکوائری جاری ہے۔ pic.twitter.com/s6W1WGk60K
— Lahore Traffic Police (@ctplahore) September 1, 2026
حادثے میں موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہوگیا جبکہ ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق بھی زخمی ہوا۔ سلطان الحق کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا موٹرسائیکل سوار ساندہ کا رہائشی تھا۔ بظاہر اس نے چالان سے بچنے کے لیے تیزی سے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اور اسی دوران ٹریفک اسسٹنٹ سے ٹکرا گیا۔
حادثے میں زخمی ہونے والے موٹرسائیکل سوار کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ پانچ روز تک زیر علاج رہا، تاہم حالت تشویشناک رہنے کے باعث جانبر نہ ہوسکا اور دم توڑ گیا۔
جاں بحق موٹرسائیکل سوار کی والدہ نے واقعے پر ٹریفک پولیس کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیٹے کی غلطی تھی تو اتنے کیمرے نصب ہیں، ان کی مدد سے چالان گھر بھیجا جاسکتا تھا۔
اہلخانہ کا ردعمل
واقعے میں جاں بحق موٹر سائیکل سوار کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو روکنے کے دوران وارڈن نے اسے بازو سے کھینچا، جس کے بعد حادثہ پیش آیا۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے موٹرسائیکل سوار کے اہل خانہ کی جانب سے ٹریفک پولیس اسسٹنٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواستیں دی گئی ہیں، تاہم ان درخواستوں پر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ٹریفک پولیس نے کیا کہا؟
ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق موٹرسائیکل سوار ہیلمٹ کے بغیر تھا اور اسے رکنے کا اشارہ کیا گیا تھا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا،ترجمان کے مطابق موٹرسائیکل سوار کے خلاف تھانہ شادمان میں مقدمہ بھی درج کرادیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کے ایس او پیز کیا ہیں؟
ٹریفک پولیس کے ایس او پیز کے مطابق کسی سواری کو روکنے کے لیے ٹریفک پولیس اہلکار کو محفوظ فاصلے سے ہاتھ یا الیکٹرانک بٹن کے ذریعے سڑک کے کنارے رکنے کا اشارہ کرنا ہوتا ہے۔
ایس او پیز کے مطابق اگر سواری رکنے کے اشارے پر نہ رکے تو ٹریفک پولیس اہلکار کو سواری کا نمبر نوٹ کرکے وائرلیس کے ذریعے اطلاع دینی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سیف سٹیز اتھارٹی کو بھی مطلع کرکے متعلقہ سواری کو ٹریک کیا جاتا ہے۔
ٹریفک پولیس کے ایس او پیز میں سواری کو روکنے کے لیے محفوظ طریقہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے ساتھ شہریوں اور ٹریفک اہلکاروں کو بھی حادثات سے محفوظ رکھا جاسکے۔



