امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان سعودیہ اور ترکیے کا دفاعی معاہدہ ہوا ہے ، اس اتحاد کو کو مکہ مکرمہ اور بیت المقدس کی حفاظت کے لیے استعمال ہونا چاہیے، پاکستان کو اس میں لیڈنگ رول ادا کرنا ہو گا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ اگر ہماری ٹیکنالوجی بیت المقدس کے لیے استعمال نہیں ہو گی تو کیا فائدہ ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کو سیدھا سیدھا پیغام دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے ہم عوامی مسائل کے لئے نکلے ہیں، نا اہل طبقے کا بوجھ پاکستان کے عوام اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں جگہ جگہ احتجاجی کیمپ لگ چکے ہیں، آج رات کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا، 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کی کال دیں گے، ستمبر کے پہلے ہفتے میں یہ ہڑتال ہو گی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے گندم کی برآمد کی اجازت دے دی ہے ،جس کی وجہ سے گندم کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے، پہلے امپورٹ کی، اب ایکسپورٹ کر رہے ہیں، سسٹم میں بیٹھے ہوئے لوگ عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے رہے، ابھی تک نگران حکومت میں درآمد ہونے والی گندم کا حساب نہیں ملا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکمران کہتے ہیں باہر سے ریفائن تیل مہنگا مل رہا ہے، ملک میں جو تیل ریفائن ہوتا ہے وہ سستا پڑتا ہے، کمپنیاں مقامی تیل پر قیمت باہر والے تیل کی لے رہی ہیں، لیوی کا کوئی تعلق پٹرولیم مصنوعات سے نہیں ہے وہ بھی وصول کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت لیوی ختم نہیں کرے گی تو ہم سڑکوں پر بیٹھنا شروع کریں گے، ہمارا کوئی انا کا مسئلہ نہیں، ہم صرف ریلیف چاہتے ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہچئیرمین سینٹ نے کروڑوں روپے کی گاڑی لے لی، یہ خود کو بادشاہ اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔



