ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ’مکہ دفاعی معاہدے‘ میں ایران کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، تاہم دیگر تینوں ممالک کی جانب سے تاحال اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کی ممکنہ شمولیت سعودی عرب کے ساتھ علاقائی اثرورسوخ کی کشیدگی اور پاکستان کے ساتھ سرحدی سکیورٹی معاملات کے باعث پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی نیوز ایجنسی کے سربراہ مہدی رحیمی نے قطری نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ تہران کو معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہوئی ہے اور معاملہ زیر غور ہے۔
Iran NVITED to Join the Mecca Defense Agreement
Mehdi Rahimi, the head of Iran’s Parliament’s news agency, told Al-Mayadeen that Iran has received an invitation to join the Mecca Defense Pact. pic.twitter.com/lGrrolw2F1
— Ryan Rozbiani (@RyanRozbiani) August 22, 2026
مہدی رحیمی کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک علاقائی سکیورٹی چھتری کے قیام کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو ایران کے لیے ایک کامیابی ہے کیونکہ تہران طویل عرصے سے خطے میں مقامی سکیورٹی نظام کی حمایت کرتا رہا ہے۔
انہوں نے امریکا پر ایران کے خلاف معاشی جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جو ممالک اس میں واشنگٹن کا ساتھ دیں گے انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
تاہم سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی حکومتوں نے ایران کو دعوت دیے جانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی جبکہ معاہدے میں ایران کو ممکنہ رکن قرار دینے والی کوئی دستاویز بھی منظر عام پر نہیں آئی۔
مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
معاہدے کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسے 2026 کی ایران جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی صورتحال میں تبدیلی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔
یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی بنیاد پر مزید وسعت اختیار کر گیا۔
ترکیہ کی شمولیت دونوں ممالک کے ساتھ اس کے طویل دفاعی تعاون کا نتیجہ ہے۔ تینوں ممالک کا مؤقف ہے کہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مصر مستقبل میں معاہدے کا رکن بن سکتا ہے جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ بھی واضح کرچکا ہے کہ اصولوں کی پاسداری کرنے والے علاقائی ممالک کے لیے معاہدے کے دروازے کھلے ہیں۔



