اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور امریکی انرجی ٹیکنالوجی کمپنی بیکر ہیوز کے درمیان پرانے تیل و گیس اثاثوں سے پیداوار میں اضافے کے لیے معاہدہ طے پا گیا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں او جی ڈی سی کے ہیڈکوارٹر میں دونوں کمپنیوں کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں اسپیشل سیکرٹری پٹرولیم مرزا ناصرالدین مشعود احمد، امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر، او جی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد حیات لک سمیت دونوں کمپنیوں کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔
او جی ڈی سی کے سربراہ احمد حیات لک نے کہا کہ کمپنی تیل و گیس کی پیداوار میں بہتری اور پاکستان کی توانائی سلامتی مضبوط بنانے کے لیے عالمی معیار کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے۔
امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد سے پرانے اثاثوں کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔
معاہدے کی تفصیل کے حوالے سے او جی ڈی سی ایل ترجمان نے کہا کہ معاہدے کا مقصد کمپنی کے میچور اثاثوں سے تیل و گیس کی پیداوار کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیکر ہیوز جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے او جی ڈی سی ایل کے میچور اثاثوں کو بحال اور ان کی پیداواری صلاحیت بہتر کرے گا۔
اثاثوں سے متعلق ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ او جی ڈی سی ایل کی جامع پروڈکشن آپٹیمائزیشن مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی کے 18 میچور اثاثوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان اثاثوں میں 12 آئل اور 6 گیس فیلڈز شامل ہیں۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق کمپنی کی موجودہ یومیہ پیداوار تقریباً 40 ہزار بیرل خام تیل، 815 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس اور 780 میٹرک ٹن ایل پی جی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ معاہدہ ملک کی توانائی سلامتی اور مقامی تیل و گیس کی پیداوار میں اضافے کیلئے اہم ہے۔
امریکی ناظم الامور نے معاہدے کو پاک امریکا توانائی شراکت داری میں اہم سنگ میل قرار دیا۔ جبکہ اسپیشل سیکرٹری پٹرولیم نے بھی معاہدے کو مقامی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے کی کوششوں کے لیے اہم قرار دیا۔
او جی ڈی سی اور بیکر ہیوز معاہدہ موجودہ پیداواری اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے، مقامی توانائی کے وسائل بڑھانے اور درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔


