بچوں کے سوشل میڈیا استعمال، آن لائن تحفظ کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر وزارت آئی ٹی، وزارت اطلاعات، وزارت داخلہ، وزارت قانون، پی ٹی اے اور پیمرا سے جواب طلب کرلیا گیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ پیمرا کا اس سے متعلق کوئی قانون ہے؟ کیا ابھی تک اس سے متعلق کوئی قانون بنایا گیا ہے؟
وکیل نے بتایا کہ اس سے متعلق اب تک کوئی قانون نہیں بنایا جا سکا، پیمرا کے پاس صرف شکایت پر کاروائی کے اختیار کا قانون ہے۔دنیا کے مختلف ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو عمر کی حد اور حفاظتی اقدامات سے مشروط کر رہے ہیں۔
بعدازاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے وزارت آئی ٹی، وزارت اطلاعات، وزارت داخلہ، وزارت قانون، پی ٹی اے اور پیمرا سے جواب طلب کرلیا گیا،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لاء افسر کو نوٹسز پر عملدرآمد کی ہدایت کر دی۔
درخواست گزار نے کیا موقف اختیار کیا؟
درخواست گزار ایڈووکیٹ یحییٰ فرید خواجہ نے موقف اختیار کیا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام بنایا جائے،بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات، سائبر بُلنگ اور آن لائن ہراسگی سے محفوظ بنانے کی قانون سازی کی ہدایت کی جائے۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے جامع قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی ہدایت کی جائے، بچوں کے بہترین مفاد کا تحفظ ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
درخواست میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے خصوصی سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری میکنزم قائم کرنے کی بھی استدعا کی گئی۔



