امامِ حرمین شریفین شیخ عبدالرحمان السدیس نے مکہ مکرمہ میں ہونے والے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کو امتِ مسلمہ کی وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے خیر کا سبب قرار دے دیا۔
امامِ حرمین شریفین شیخ عبدالرحمان السدیس نے پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں عالمِ اسلام کی موجودہ صورتحال، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شیخ عبدالرحمان السدیس نے مکہ مکرمہ میں ہونے والے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کو امتِ مسلمہ کی وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے خیر کا سبب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے امام حرمین شریفین سے گفتگو کے دوران کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ عالمِ اسلام کی وحدت اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان ہمیشہ حاضر ہے اور پاکستانی قوم کے دل سعودی عرب اور حرمین شریفین کے ساتھ محبت و عقیدت سے جڑے ہوئے ہیں۔
شیخ عبدالرحمان السدیس نے طاہر اشرفی کو تمغۂ امتیاز کے لیے نامزدگی پر مبارکباد بھی پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور پاکستانی عوام کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور مشترکہ حکمتِ عملی موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے ذریعے باہمی دفاع اور مشترکہ ردِعمل کے عزم کو مضبوط کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ؛امریکی صدر کاخیرمقدم،پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کی تعریف
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر سیاسی اور عسکری رابطہ کاری کے لیے مربوط طریقۂ کار وضع کرنے، دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس میں بری، بحری اور فضائی شعبوں کے علاوہ سائبر دفاع، بغیر پائلٹ نظام، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید دفاعی شعبوں میں مشترکہ مشقوں اور تعاون پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
معاہدے میں دفاعی صنعت کے شعبے میں مشترکہ ترقی، پیداوار، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی راہ ہموار کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس تعاون سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی اور تجربات کے تبادلے کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ معاہدے کو موجودہ دفاعی اتحادوں کا متبادل قرار نہیں دیا گیا بلکہ اسے علاقائی سلامتی اور باہمی دفاعی تعاون کے ایک اضافی فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
