واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں جلد فیصلہ کرنے والے ہیں اور ایران سے متعلق مختلف آپشنز زیرغور ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ زیرغورآپشنز میں ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپشنز میں ایران کو معاشی طور پر مزید کمزور کرنا اور ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا بھی شامل ہیں۔ جبکہ مستقبل قریب میں بڑے واقعات رونما ہوں گے۔
پیر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح اجلاس کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے سفارتی روابط کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کا غالب امکان موجود ہے۔
واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام کو جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے دینے کی منظوری دی ہے۔ جس کے بعد ایرانی صدر آئندہ چند روز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے، جس میں وہ عالمی امور خصوصاً ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے ایران کا مؤقف پیش کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر اپنے دورہ نیویارک کے دوران عالمی رہنماؤں اور مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ جن میں دوطرفہ تعلقات، عالمی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
دورہ نیویارک کے دوران ایرانی وفد کی مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتوں کا بھی امکان ہے، تاہم ملاقاتوں کی حتمی تفصیلات بعد میں سامنے آنے کی توقع ہے۔



