لندن: پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں مشکلات کا شکار ہے اور انگلینڈ کی پوزیشن مضبوط ہے۔
لارڈز کے تاریخی میدان میں جاری دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے دوسری اننگز میں پاکستان کے خلاف388 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے، دوسری اننگز میں انگلینڈ کی پوری ٹیم 208 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، پہلی اننگز میں انگلینڈ نے 290 رنز بنائے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے پہلی اننگز میں صرف 110 رنز بنائے تھے ، 389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی مختلف فارمیٹس میں ناقص کارکردگی کا سلسلہ برقرار ہے، رواں سال پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز 1-1 سے برابر رہی۔انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز میں بھی پاکستان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔
دوسری جانب سابق پاکستانی کپتان اور بیٹر محمد یوسف نے موجودہ کھلاڑیوں کی تکنیک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی سال قبل بھی انہوں نے ان خامیوں کی نشاندہی کی تھی لیکن بابر اعظم اور دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے والے بعض کوچز نے ان مسائل کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی۔
محمد یوسف نے اپنے بیان میں کہا کہ کھلاڑیوں کی تکنیک میں موجود خامیاں بنگلہ دیش سے انگلینڈ تک بری طرح بے نقاب ہوئی ہیں، ان کے مطابق جو مسائل کئی سال قبل درست کیے جاسکتے تھے، وہ اب پاکستان کرکٹ کی واضح کمزوری بن چکے ہیں۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے زوال کی ذمہ داری صرف کوچز پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی ملک میں ٹیلنٹ تلاش کرنے، ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانے اور بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
Few years ago I warned about this, but unfortunately some so called coaches around #Babarazam & other players didn’t allow him to work on issues that could have been easily resolved. That failure has dragged Pakistan cricket into the decline we see today.
These coaches are… pic.twitter.com/Go9kNc7abu
— Mohammad Yousaf (@yousaf1788) August 30, 2026
محمد یوسف کے مطابق پاکستان نے ماضی میں عمران خان، ظہیر عباس، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے عالمی معیار کے کھلاڑی پیدا کیے تاہم موجودہ دور میں قومی ٹیم کو عالمی معیار کے مستقل ٹیلنٹ کی کمی کا سامنا ہے۔
پاکستان کے سابق کپتان اور اسٹار بیٹر بابر اعظم کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی بھی ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف بابر اعظم کی ناکامی نے ان کی بیٹنگ تکنیک اور مستقبل کی فارم پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بابراعظم لارڈز ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں 8 جبکہ دوسری اننگز میں 6 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، 2019 میں آسٹریلیا کے خلاف برسبین کے گابا گراؤنڈ میں بابر اعظم نے 25 رنز پر 3 وکٹیں گرنے کے بعد شاندار 104 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔
تاہم کئی برس گزرنے کے باوجود بابر اعظم اس تسلسل کو برقرار نہیں رکھ سکے، لارڈز ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پاکستان 16 رنز پر 2 وکٹیں گنوا چکا تھا اور بابر سے ایک مرتبہ پھر ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالنے کی امیدیں وابستہ تھیں لیکن وہ مختصر اننگز کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔
بابر نے ابتدا میں جوش ٹونگ کی گیندوں کو محتاط انداز میں کھیلا، تاہم اس کے بعد ان کی بیٹنگ میں غیر یقینی پن نمایاں ہوا۔ ایک چوکا لگانے کے بعد بابر مسلسل دو مرتبہ بیرونی کنارے سے بچتے نظر آئے، لیکن ٹونگ کی اگلی گیند پر وہ ایک بار پھر باہر جاتی گیند سے چھیڑ چھاڑ کر بیٹھے اور کیچ آؤٹ ہوگئے۔
بابراعظم دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری اسکور نہیں کرسکے، گزشتہ سات برسوں میں 2019 کے برسبین ٹیسٹ سے لے کر اب تک، پاکستان سے باہر ان کی صرف ایک اور ٹیسٹ سنچری ہے۔
بابر اعظم اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ بیٹنگ رینکنگ میں دسویں نمبر پر ہیں، جبکہ اپنے ٹیسٹ کیریئر کے ابتدائی برسوں میں ان کا دفاعی کھیل عالمی معیار کا سمجھا جاتا تھا تاہم وقت کے ساتھ ان کے دفاعی کھیل میں نمایاں کمزوری آئی ہے، جس نے ان کی جارحانہ بیٹنگ کی بنیاد بھی متاثر کی ہے۔
اس کے باوجود بابر کے کھیل کا ایک پہلو اب بھی مضبوط ہے۔ فاسٹ بولنگ کے خلاف ان کے جارحانہ اسٹروکس آج بھی غیر معمولی معیار کے ہیں اور جب وہ گیند کو حرکت کے بغیر مکمل کنٹرول کے ساتھ کھیلتے ہیں تو ان کی بیٹنگ میں وہی پرانی کلاس دکھائی دیتی ہے۔


