بھارتی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے سابق کپتان سوریا کمار یادیو نے قومی ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے معاملے پر پہلی مرتبہ تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ٹیم میں ان کا نام شامل نہیں تو وہ مسکرائے، کیونکہ دباؤ کے لمحات میں وہ ہمیشہ خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یاد رہے 35 سالہ سوریا کمار یادیو کی قیادت میں بھارت نے 50 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں سے 42 میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی قیادت میں بھارت نے مارچ 2026 میں ہوم گراؤنڈ پر نیوزی لینڈ کو شکست دے کر عالمی ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا گیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل سوریا کمار یادیو کا بھارت کی جانب سے آخری میچ ثابت ہوا۔
سوریا کمار یادیو نے آکاش چوپڑا کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ٹیم میں ان کا نام موجود نہیں تو وہ مسکرائے۔ ان کے مطابق جب بھی وہ دباؤ میں رہے یا حالات ان کے حق میں نہ ہوں تو انہوں نے مسکرانے اور پرسکون رہنے کی کوشش کی، ماضی کے لمحات کو یاد کیا اور ان پر شکر ادا کیا۔
سوریا کمار یادیو نے کہا کہ انہیں 2026 میں اس طرح کے فیصلے کی توقع نہیں تھی۔ وہ اس سوچ کے ساتھ تیاری کررہے تھے کہ آئندہ دو سال تک بھارتی ٹیم کو آگے لے کر جائیں گے، جس دوران اولمپکس، ایک اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور اس کے بعد مزید چیلنجز ان کے سامنے ہوں گے۔
سوریا کمار یادیو نے شریاس ایئر کو کپتان مقرر کیے جانے پر کہا کہ وہ ان کے ساتھ کافی کرکٹ کھیل چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ اچھے کھلاڑی، اچھے انسان اور اچھے کپتان بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فیصلے پر ناراضی نہیں ہوئی، تاہم مایوسی ضرور ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے دو سال تک کوئی سیریز نہیں ہاری، ایشیا کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ یہی سلسلہ آگے بھی جاری رہے۔ سوریا کمار یادیو نے سوال اٹھایا کہ جب سب کچھ اچھا چل رہا تھا تو پھر تبدیلی کیوں کی گئی؟
سابق بھارتی کپتان نے واضح کیا کہ وہ اب بھی بھارت کے لیے کھیلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کھیلنے کے لیے تیار ہیں، ابھی کھیل رہے ہیں اور کھیلتے رہیں گے، جب بھی ٹیم کو محسوس ہو کہ وقت اور حالات درست ہیں تو انہیں دوبارہ بلایا جاسکتا ہے۔




