کراچی: ناظم آباد کے نجی اسپتال میں خاتون کی مبینہ ڈیلیوری اور بچے کی پیدائش سے متعلق تنازع پر پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پولیس کے مطابق 24 سالہ خاتون کو 27 اگست کو اورنگی ٹاؤن سے زچگی کے لیے نجی اسپتال لایا گیا تھا۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ خاتون گزشتہ 9 ماہ سے ڈاکٹر کے طبی معائنے اور الٹراساؤنڈ کروا رہی تھی اور وہ حاملہ تھی۔
پولیس حکام کے مطابق خاتون کا نجی اسپتال میں آپریشن کیا گیا اور اسے لیبر روم میں لے جاکر آپریشن سے قبل کے تمام مراحل بھی مکمل کیے گئے۔ تاہم اسپتال انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے دوران خاتون کے حاملہ نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔
واقعے کے بعد خاتون کے شوہر اور دیگر رشتہ دار مشتعل ہوگئے اور اسپتال میں توڑ پھوڑ کی، جس کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔
پولیس کے مطابق دو ماہر لیڈی ڈاکٹرز سے خاتون کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے، جبکہ حمل اور بچے کی پیدائش سے متعلق صورتحال واضح کرنے کے لیے ضروری طبی ٹیسٹ بھی کروائے جا رہے ہیں۔ ٹیسٹ آغا خان اسپتال اور ضیاء الدین اسپتال سے کرائے جا رہے ہیں، جن کی رپورٹس پیر تک متوقع ہیں۔
پولیس نے خاتون کو میڈیکو لیگل معائنے کے لیے عباسی شہید اسپتال بھی بھجوا دیا ہے۔ حکام کے مطابق طبی رپورٹس کی روشنی میں واقعے کی حقیقت اور قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے گا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ڈی پی او گلبرگ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ٹیم اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیجز، طبی رپورٹس اور دیگر شواہد کا جائزہ لے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی، جبکہ اہل خانہ کے مطابق ان کے پاس خاتون کے طبی معائنے اور رپورٹس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔


