کراچی: پولیس نے میر رضا علی قتل کیس کے سلسلے میں ہونے والے احتجاج کے دوران کراچی کی مرکزی شاہراہ فیصل کا ایک حصہ بلاک کرنے کے الزام میں تقریباً 100 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
جمعے کو سامنے آنے والی ایف آئی آر سب انسپکٹر (ایس آئی) محمد نظام کی مدعیت میں درج کی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے بتایا کہ 27 اگست (جمعرات) کی رات 3 بجے کے قریب انہوں نے تقریباً 100 افراد کو صدر سے ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ فیصل کی سڑک پر موجود دیکھا، جنہوں نے ٹریفک روک رکھی تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور بینرز تھے، جن پر ’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘ جیسے نعرے درج تھے۔
مدعی کے مطابق مظاہرین نے گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت کے لیے سڑک بند کر رکھی تھی اور نعرے بازی کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکام نے مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی، تاہم وہ ’باز نہیں آئے اور نعرے لگاتے رہے‘۔
عام شہریوں کے خلاف مقدمات قابل مذمت ہیں، جبران ناصر
دوسری جانب نوجوان تاجر میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے جمہوری احتجاج کے حق کو استعمال کرنے والے عام شہریوں کے خلاف مقدمات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ سندھ حکومت نے تاحال ان پولیس افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے شہید میر رضا کے قتل کو خودکشی قرار دے کر معاملہ دبانے کی کوشش کی، لیکن جمہوری احتجاج کے حق کو استعمال کرنے والے عام شہریوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
No action till date by Sindh Govt against police officers who tried to cover-up murder of #ShaheedMirRaza as suicide but takes action against ordinary citizens for exercising their democratic right of protest. Strongly condemn the FIR. Available to represent protestors for bail. https://t.co/wuLpcuB2Hy
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) August 27, 2026
وکیل جبران ناصر نے مزید کہا کہ ہم اس ایف آئی آر کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کی ضمانت کے لیے قانونی نمائندگی فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔
میر رضا علی کی ہلاکت کا معاملہ کیا ہے؟
26سالہ میر رضا علی آئی بی اے کے گریجویٹ اور کاروباری شخصیت تھے۔ وہ 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے جبکہ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔
ابتدائی تحقیقات میں معاملے کو خودکشی کے زاویے سے دیکھا گیا، تاہم میر رضا کے والدین نے ابتدا ہی سے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے قتل کا مؤقف اختیار کیا۔
اہلخانہ نے تحقیقات، فرانزک شواہد، میڈیکو لیگل معائنے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کی ہینڈلنگ پر سوالات اٹھائے، جس کے بعد پولیس نے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
نئی پولیس ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی امیر فاروقی کو سونپی گئی۔ ٹیم نے اہلخانہ سے ملاقات کرکے سابقہ تحقیقات کا ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ ابتدا میں خاندان نے نئی تحقیقاتی ٹیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سندھ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کے سابقہ منصوبے کو مؤخر کردیا تھا۔
تاہم حکومت کی جانب سے دوبارہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے نے معاملے کو ایک مرتبہ پھر متنازع بنا دیا ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوڈیشل کمیشن نہیں بلکہ جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا تھا۔



