نوجوان تاجر میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے جمہوری احتجاج کے حق کو استعمال کرنے والے عام شہریوں کے خلاف مقدمات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ سندھ حکومت نے تاحال ان پولیس افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے شہید میر رضا کے قتل کو خودکشی قرار دے کر معاملہ دبانے کی کوشش کی، لیکن جمہوری احتجاج کے حق کو استعمال کرنے والے عام شہریوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
No action till date by Sindh Govt against police officers who tried to cover-up murder of #ShaheedMirRaza as suicide but takes action against ordinary citizens for exercising their democratic right of protest. Strongly condemn the FIR. Available to represent protestors for bail. https://t.co/wuLpcuB2Hy
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) August 27, 2026
وکیل جبران ناصر نے مزید کہا کہ ہم اس ایف آئی آر کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کی ضمانت کے لیے قانونی نمائندگی فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔
میر رضا علی کی ہلاکت کا معاملہ کیا ہے؟
میر رضا علی آئی بی اے کے گریجویٹ اور کاروباری شخصیت تھے۔ وہ 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے جبکہ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔
ابتدائی تحقیقات میں معاملے کو خودکشی کے زاویے سے دیکھا گیا، تاہم میر رضا کے والدین نے ابتدا ہی سے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے قتل کا مؤقف اختیار کیا۔
اہلخانہ نے تحقیقات، فرانزک شواہد، میڈیکو لیگل معائنے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کی ہینڈلنگ پر سوالات اٹھائے، جس کے بعد پولیس نے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
نئی پولیس ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی امیر فاروقی کو سونپی گئی۔ ٹیم نے اہلخانہ سے ملاقات کرکے سابقہ تحقیقات کا ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ ابتدا میں خاندان نے نئی تحقیقاتی ٹیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سندھ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کے سابقہ منصوبے کو مؤخر کردیا تھا۔
تاہم حکومت کی جانب سے دوبارہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے نے معاملے کو ایک مرتبہ پھر متنازع بنا دیا ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوڈیشل کمیشن نہیں بلکہ جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا تھا۔
کاروباری پارٹنر کی عبوری ضمانت میں توسیع
میر رضا علی کے کاروباری پارٹنر محمد احمد کی عبوری ضمانت میں بھی کراچی کی عدالت نے توسیع کردی۔
پارٹنر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو صرف کاروباری شراکت داری کی بنیاد پر تفتیش میں شامل کیا گیا اور پولیس کی جانب سے انہیں بار بار طلب کرکے ہراساں کیا گیا۔
پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ محمد احمد کو گرفتاری کے لیے نہیں بلکہ تفتیش کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق وہ میر رضا کے ساتھ موجود رہے تھے، اس لیے ان کا تفتیش میں شامل ہونا ضروری ہے۔
عدالت نے کاروباری پارٹنر کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے انہیں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون اور ضرورت پڑنے پر تھانے میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔ عدالت نے انہیں آئندہ سماعت تک شہر سے باہر جانے سے بھی روک دیا۔
میر رضا علی کے اہلخانہ اب بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے بیٹے کی موت کے آخری لمحات، سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون، اسمارٹ واچ، فرانزک شواہد اور سابقہ تحقیقات میں مبینہ خامیوں سمیت تمام پہلوؤں کی جامع اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، جبکہ سندھ ہائیکورٹ میں جوڈیشل کمیشن کے خلاف درخواست اور جے آئی ٹی کے مطالبے پر آئندہ سماعت 31 اگست کو ہوگی۔



