وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوائٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اس وقت کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم ایران کے حوالے سے تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔
فاکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین لیوائٹ نے ایران کی معاشی صورتحال کو بھی شدید بحران سے دوچار قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق ایران میں افراط زر کی شرح 100 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ایرانی حکومت کو اپنے پولیس اور ملٹری اہلکاروں کو تنخواہیں ادا کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے اب تک نمٹ رہا ہے۔
کیرولین لیوائٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اولین مقصد پہلے بھی یہی تھا اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
ان کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ فی الحال مذاکرات کا سلسلہ جاری نہیں، تاہم امریکی حکومت نے مستقبل کے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ معاشی مشکلات اور حالیہ نقصانات کے باوجود امریکا اپنے بنیادی مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔



