پاکستان میں آتشزدگی کے واقعات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔
ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے آتشزدگی کے واقعات مسلسل رونما ہورہے ہیں تاہم بڑے سانحات کے بعد تحقیقات اور انکوائریوں کے اعلانات کے باوجود ذمہ داروں کے تعین، احتساب اور مؤثر حفاظتی اصلاحات کا معاملہ اکثر پسِ پردہ چلا جاتا ہے۔
پمز اسپتال کی نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر ملک میں فائر سیفٹی، اسپتالوں کی ایمرجنسی تیاری اور ادارہ جاتی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھادیے ہیں۔
انتہائی نگہداشت کے شعبے میں موجود نومولود بچوں کا آگ سے غیر محفوظ رہنا اسپتال کے حفاظتی اور ہنگامی نظام کی خامیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
آئیے گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک میں پیش آنے والے بڑے آتشزدگی کے واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
2016 میں پیش آنے والے واقعات
2016 میں لاہور کی اشرف گارمنٹس فیکٹری میں آگ سے کم از کم 3 مزدور جان کی بازی ہار گئے، تحقیقات میں شارٹ سرکٹ اور ہنگامی راستہ نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی جبکہ فیکٹری مالک کو گرفتار کیا گیا۔

اسی سال کراچی کے ریجنٹ پلازا ہوٹل میں آتشزدگی سے 12 افراد جاں بحق اور 75 سے زائد زخمی ہوئے، تحقیقات میں فائر الارم، ہیٹ سینسرز اور دیگر حفاظتی انتظامات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی۔
یکم نومبر 2016 کو گڈانی شپ بریکنگ یارڈ (بلوچستان) میں ایک آئل ٹینکر کو توڑنے کے دوران شدید دھماکے ہوئے اور آگ بھڑک اٹھی۔ جہاز میں موجود متعدد مزدور اندر پھنس گئے، 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، یہ حادثہ پاکستان کے بڑے صنعتی حادثات میں شمار ہوتا ہے۔
سال 2017
2017 میں بہاول پور آئل ٹینکر سے بڑی مقدار میں تیل گرگیا تھا جس کے بعد قریبی علاقوں سے درجنوں افراد آئل لینے کے لیے ٹینکر کے قریب پہنچ گئے تھے، اسی دوران آگ بھڑک اٹھنے سے کم از کم 200 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ حادثے کے بعد خطرناک مواد کی نقل و حمل اور ایمرجنسی رسپانس پر سوالات پیدا ہوئے۔
اسی سال اسلام آباد کے ایچ نائن اتوار بازار (پشاور موڑ) میں آگ سے 550 سے زائد اسٹال جل گئے تھے جبکہ کراچی میں کاسمیٹکس فیکٹری کے دھماکے میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔
سال 2018
2018 میں پشاور کے ہوٹل آفندی میں گیس دھماکے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ لاہور کی جوتوں کی فیکٹری میں آگ سے ایک شخص جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے۔
سال 2019
2019 میں تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی کا ہولناک سانحہ پیش آیا تھا، جس میں کم از کم 75 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، ابتدائی طور پر سلنڈر اور چولہے کو وجہ قرار دیا گیا تاہم بعدازاں کی گئی تحقیقات میں ٹرین کی الیکٹرک وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کو آگ کی وجہ قرار دیا گیا۔

سال 2020
2020 میں کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے سے ایک نومولود جاں بحق ہوا، اسی سال کراچی کی ایک فیکٹری میں بوائلر دھماکے سے 8 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے جبکہ دیگر صنعتی و رہائشی علاقوں میں بھی مہلک آتشزدگی کے واقعات پیش آئے۔
سال 2021
2021 میں کراچی کی بی ایم لگیج فیکٹری میں آگ سے کم از کم 16 افراد جاں بحق ہوئے، فیکٹری کے غیرقانونی طور پر چلنے، دروازوں اور کھڑکیوں کے بند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس پر مالکان اور دیگر افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
سال 2022
2022 میں کراچی کے ایک نجی اسپتال میں آگ سے دو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ لاہور کے چلڈرن اسپتال میں میڈیکل اسٹور میں لگنے والی آگ سے جانی نقصان نہیں ہوا۔
سال 2023
2023 میں کراچی کی نیو کراچی فیکٹریوں میں آگ بجھاتے ہوئے چار فائر فائٹرز جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے، اسی سال لاہور کے بھٹی گیٹ میں گھر میں آتشزدگی سے ایک خاندان کے 10 افراد، جن میں چھ بچے اور چار خواتین شامل تھیں جاں بحق ہوئے۔
کراچی کے آر جے شاپنگ مال میں نومبر 2023 میں آگ سے 11 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے، تحقیقات میں ناقص الیکٹرک وائرنگ، ناکافی وینٹی لیشن اور عمارت کی انتظامی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
سال 2024
2024 میں کراچی کے اتحاد ٹاؤن میں آگ سے جڑواں بچوں سمیت تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ نیو چالی میں گیس سلنڈر دھماکے سے دو افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے، شاہ فیصل کالونی میں رہائشی عمارت کی آگ میں بھی ایک شخص جاں بحق ہوا۔
سال 2025
2025 میں کراچی کے آتش بازی کے گودام میں دھماکے اور آگ سے 34 افراد زخمی ہوئے جبکہ ڈی ایچ اے میں عمارت کی آگ سے دو افراد جاں بحق اور نو زخمی ہوئے۔
دسمبر 2025 میں فیصل آباد کی گلو فیکٹری میں بوائلر دھماکے سے 18 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق فیکٹری رہائشی علاقے میں غیرقانونی طور پر قائم کی گئی تھی۔
سال 2026
جنوری 2026 میں کراچی کے معروف گل پلازہ میں آتشزدگی کا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس میں کم از کم 80 افراد جاں بحق، درجنوں افراد زخمی ہوئے اور سیکڑوں دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں، اس سانحے نے ایک بار پھر فائر سیفٹی کی صورتحال پر بڑے سوالات اٹھائے۔

تحقیقات میں پلازہ میں فائر الارم، فعال اسپرنکلرز، ہائیڈرنٹس اور واضح ایمرجنسی راستوں کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔ حکام نے واقعے میں شدید غفلت اور ادارہ جاتی ناکامی کے پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی۔
اب آج 26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ماضی کے ان تمام افسوسناک واقعات کی تلخ یادیں تازہ کردی ہیں، سوال ایک بار پھر وہی ہے کہ انکوائری کمیٹیوں، تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کے اعلانات کے بعد عملی طور پر کیا بدلا؟
پمز واقعے کی ابتدائی سی ڈی اے رپورٹ میں بھی فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو مقررہ معیار کے مطابق نہ ہونے، ایمرجنسی راستوں کے بند یا رکاوٹ کا شکار ہونے اور اسپتال کے سیکیورٹی عملے کی جانب سے فائر فائٹنگ ٹیم کی ابتدائی کارروائی میں رکاوٹ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پمز سانحہ ایک اور انکوائری سے آگے بڑھ کر اس بنیادی سوال کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کے اسپتالوں، فیکٹریوں، تجارتی عمارتوں اور رہائشی مراکز میں فائر سیفٹی قوانین پر مؤثر عملدرآمد کب یقینی بنایا جائے گا اور غفلت کے ذمہ داروں کا احتساب کب ہوگا؟


