اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ غفلت اور لاپروائی کے مرتکب افراد کو نہیں چھوڑیں گے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پمز کے بعد سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں۔ واقعہ کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سب لوگوں کو احتساب سے گزرنا پڑے گا کوئی بھی احتساب سے نہیں بچ سکے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نرس کے مطابق 6 بجکر 38 منٹ پر اے سی میں اسپارک ہوا تھا۔ اور 6 بجکر 40 منٹ پر آگ پھیل چکی تھی۔
صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے کچھ دیر بعد ملاقات کرنے جاؤں گا۔ اور انہیں صورتحال سے آگاہ کروں گا، وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ہم بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ کوئی بھی چیز چھپے گی نہیں، حقائق سب کے سامنے آئیں گے۔
وزیر صحت نے کہا کہ وزیر اعظم جو احکامات دیں گے مانوں گا۔ کسی کو لگانا اور معطل کرنا وزیر اعظم کا استحقاق ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا سے مریض علاج کے لیے پمز آتے ہیں۔ پمز اسپتال 300 لوگوں کی او پی ڈی کے لیے بنا تھا لیکن اب پمز اسپتال میں روزانہ 9 ہزار افراد آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق
انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے پمز اسپتال سے بچے چوری ہوئے تھے، اور اس کے بعد لوگوں کو تلاشی کے بعد وارڈ میں جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔
