گوادر، ایم پی اے اور جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمٰن کے خلاف گوادر میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر مبینہ مداخلت اور اہلکاروں سے بدسلوکی کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ تھانہ سٹی گوادر میں شہری فدا حکیم رند کی مدعیت میں درج کیا گیا، مولانا ہدایت الرحمٰن کے خلاف مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 353، 186، 503، 504، 505 اور 506 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پشکان روڈ پر 15-C چیک پوسٹ کے قریب ایک واقعہ پیش آیا، جس کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مولانا ہدایت الرحمٰن نے سکیورٹی اہلکاروں کے فرائض کی انجام دہی میں مبینہ طور پر مداخلت کی اور اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کی۔
مقدمے میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سکیورٹی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کی۔
اڈیالہ جیل کے عام قیدیوں کا بھی علاج کیلئے عدالت سے رجوع
پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں مولانا ہدایت الرحمٰن پر سکیورٹی اداروں کے خلاف عوام میں نفرت اور اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، مقدمہ واقعے سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیو اور دیگر شواہد کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاہم مولانا ہدایت الرحمٰن کی جانب سے مقدمے میں عائد الزامات پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
