سپریم کورٹ نے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کے اجتماعی تعین سے متعلق کیس میں پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے خلاف مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی پرائس فکسنگ سے متعلق فائنڈنگ برقرار رکھتے ہوئے 3 کروڑ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سی سی پی اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے بنیادی مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا کہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کا اجتماعی تعین کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مسابقتی کاروباری اداروں کو اپنی قیمتیں آزادانہ طور پر طے کرنا ہوں گی، تجارتی ایسوسی ایشن کے ذریعے اجتماعی طور پر قیمتوں کا تعین بھی آزاد مسابقت کو محدود کرتا ہے اور قابلِ قبول نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر اجتماعی طور پر طے کی گئی قیمت صارفین کے لیے کم یا بظاہر فائدہ مند بھی ہو، تب بھی مسابقتی کاروباری اداروں کا مل کر قیمت مقرر کرنا جائز نہیں۔ عوامی مفاد کا مقصد بھی اجتماعی پرائس فکسنگ کو قانونی جواز فراہم نہیں کرتا۔
سپریم کورٹ کے مطابق ہر کاروباری ادارے کو اپنی تجارتی ضروریات اور حالات کے مطابق قیمت کا آزادانہ تعین کرنا چاہیے جبکہ مشترکہ طور پر قیمت مقرر کرنا آزادانہ مسابقتی قیمتوں کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ قیمتوں کے معاملے میں وفاقی حکومت کو بائی پاس کرکے پی وی ایم اے سے مشاورت کرنے کے بجائے متعلقہ معاملے پر مسابقتی کمیشن آف پاکستان سے رجوع کیا جانا چاہیے تھا، سی سی پی کو بائی پاس کرکے پی وی ایم اے سے قیمتوں پر مشاورت کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا باعث بنی۔
سپریم کورٹ نے سی سی پی اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے بنیادی نتائج کی توثیق کرتے ہوئے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے خلاف کارروائی برقرار رکھی۔


