اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جمعرات کی شب اسپتال آمد کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب طبی معائنے اور علاج کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، شفا انٹرنیشنل اسپتال کے 2 ماہرین نے آنکھوں کے معائنے میں حصہ لیا ، دیگر تمام طبی معائنے پمز اسپتال کے متعلقہ ماہرین نے انجام دیئے۔
اعلامیے کے مطابق پمز کے ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے مکمل میڈیکل فٹنس رپورٹ تیار کر لی ، سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق رپورٹ کے مندرجات خفیہ رہیں گے۔
واضح رہے سپریم کورٹ نے چار دن قبل عمران خان کو علاج کیلئے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم عمران خان کو شفا کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا ۔ دوسری جانب حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر درخواست دائر کر دی تھی بعد ازاں حکومت نے درخواست واپس لی تاہم گزشتہ روز عمران خان کی اسپتال منتقلی کے بارے میں سپریم کورٹ میں نظرثانی شدہ درخواست دائر کر دی۔
وفاقی حکومت نے درخواست میں کہا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا 18 اگست کا حکم واپس لیا جائے۔
حکومت نے سپریم کورٹ میں نئی نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی قیدی کو اس کی پسند کے نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دینے سے دیگر قیدیوں کے لیے بھی ایسی ہی سہولت کا مطالبہ کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور اس سے معاملات کے ’’فلڈ گیٹس‘‘ کھل جائیں گے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے پی ٹی آئی نے بھی توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم ابھی تک انہوں نے درخواست دائر نہیں کی۔



