امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران پر ایک بار پھر حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج پر حملہ ہوا تو ایران کو سخت جوابی کارروائی کا سامنا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر یا آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی کا آپشن موجودہے،آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول اور ناکہ بندی انتہائی مؤثر ہے،ایران کے خلاف معاشی دباؤ اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں
امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ایوی ایشن اور بحری جہاز رانی سمیت 5 شعبوں کو ممکنہ ثانوی پابندیوں کے لیے نشانہ بنایا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق 60 اداروں، افراد اور جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ، چین، سنگاپور اور یورپ سے تعلق رکھنے والی بعض بروکر کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام نے ایران کو رقم کی منتقلی سے متعلق بعض لائسنس بھی معطل کر دیئے ہیں۔ نئی پابندیوں کا مقصد ایران کے معاشی اور مالیاتی نیٹ ورک کو محدود کرنا اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کو روکنا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاشی تعلقات ختم کرنے کے لیے عالمی رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔ اور ہر ملک کو ایران کے ساتھ تجارت ختم کرنے کے لیے ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا کہ جو ممالک مقررہ مدت میں ایران کے ساتھ اقتصادی روابط ختم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کریں گے، ان کے خلاف امریکی محکمہ خزانہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے یکطرفہ کارروائی کرے گا۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق ممالک کو ایرانی بینکوں کی شاخیں بند کرنے کے لیے بھی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین سمیت کوئی بھی ملک امریکی پابندیوں کی گرفت سے بالاتر نہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ اس سے قبل بھی ایران کی تیل کی برآمدات، شپنگ نیٹ ورک اور پابندیوں سے بچنے میں معاون کمپنیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔



