اڈیالہ جیل میں قید افراد کو درپیش طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایمان مزاری کی فیملی نے بھی جیل میں مناسب طبی سہولیات نہ ملنے پر تشویش کا اظہارکیا ہے ۔
واضح رہے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 24 جنوری کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ”ریاستی اداروں کے خلاف مواد پھیلانے اور سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو فروغ دینے” کے الزامات میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت 17، 17 سال قید اور مجموعی طور پر 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ دونوں کو 23 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایمان مزاری کی صحت کو لیکر اہم بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ 23 جنوری 2026 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں ،سزا کے خلاف ان کی سزا معطلی درخواستیں ابھی تک اسلام آباد ہائی کورٹ میں نہیں سنی گئیں۔
شیریں مزاری نے کہا کہ ہم جیل میں ہفتہ وار ملاقاتوں سے مطمئن تھے لیکن ہم یہ بیان جاری کرنے پر مجبور ہیں ،گزشتہ تین ہفتوں سے ایمان مزاری کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے جس سے جیل میں موجود طبی سہولیات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
I am a very worried mother and this is a statement of concern about medical facilities at Adiala Jail, from the family of Imaan Zainab Mazari-Hazir and Hadi Ali Chatta. pic.twitter.com/g0gav3BdUJ
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 24, 2026
ایمان مزاری نے سب سے پہلے مسوڑوں سے شدید خون بہنے کی شکایت کی لیکن جیل میں کوئی ڈینٹسٹ دستیاب نہیں تھا ، ہم نے اپنے ڈینٹسٹ سے مشورے کے بعد اس کے لیے دوا بھجوائی لیکن تمام دوا اس تک نہیں پہنچ سکی ،اگلے ہفتے اسے معدے کے مسائل تھے اور طبی لحاظ سے پھر بھی توجہ نہیں دی گئی۔
شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ بدترین بات یہ ہے Zedron نامی دوا جو بنیادی طور پر کینسر کے مریضوں کے لیے ہے اس پر واضح لکھا ہے اسے بچے پیدا کرنے کی عمر کی خواتین کو نہیں دیا جانا چاہیے وہ اسے دے دی گئی ،گزشتہ ایک ہفتے سے ایمان کو سینے کا انفیکشن ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔
ایمان مزاری کا بلڈ ٹیسٹ کیا گیا جس سے انفیکشن ظاہر ہوا اس لئے اس کا سینے کا ایکسرے کروانا ضروری ہے ،جیل حکام نے ابھی تک سینے کا ایکسرے نہیں کروایا تاکہ انفیکشن کی وجہ معلوم کی جا سکے ۔
ہماری تشویش اور بھی بڑھ گئی ہے کہ اڈیالہ جیل کے خواتین وارڈ میں جن قیدیوں کو متعدی بیماریوں کی تشخیص ہوئی ہے انہیں الگ نہیں رکھا جاتا۔وہ خواتین دیگر قیدیوں کے ساتھ ساتھ بھی ملتی جلتی ہیں خواتین کے لیے طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی دستیابی بھی انتہائی ناقص ہے۔یہ جیل کے اندر ناکافی طبی سہولیات ہیں قیدیوں کی فلاح و بہبود ریاست کی ذمہ داری ہے جسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ اگر ان کی سزا معطلی کی درخواستیں بروقت سنی جائیں تو ان تمام صحت کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے،جیل حکام اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں ایمان مزاری کا سینے کا ایکسرے جلد از جلد کروایا جائے ،تمام خواتین قیدیوں کو مناسب طبی سہولیات بشمول ڈینٹل کیئر فراہم کی جائیں۔
متعدی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کو عزت کے ساتھ الگ/قرنطینہ کیا جائے تاکہ دیگر قیدیوں کو محفوظ رکھا جا سکے،تمام قیدیوں کو اسپیشلسٹ ڈاکٹرز اور متعلقہ ادویات تک رسائی دی جائے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 8 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقرر ایمان اور ہادی کی سزا معطلی کی درخواستوں کی مخالفت نہ کرے۔



