خنجراب پاس کے ذریعے پاک چین تجارت اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہونے لگا، پاکستانی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں تیزی آگئی ۔
مالی سال 2026-2025 کے دوران خنجراب پاس سے ریکارڈ 15 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا، خنجراب پاس سے چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو 2.8 ارب روپے مالیت کی اشیا برآمد کی گئیں۔
پاکستان کسٹمزکا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹس انٹرنیشنل روٹیئرز نظام کے تحت چین اور وسطی ایشیا کو برآمدات میں اضافہ ہوا، ٹی آئی آر نظام کے باعث عالمی سطح پر تجارت تیز، محفوظ اور آسان ہو گئی ہے۔
برآمدی اشیا میں ملبوسات، چاول، چمڑے کی مصنوعات، قالین، پھل، سبزیاں اور دستکاری شامل ہیں ، خنجراب پاس پر سخت جانچ اور مشترکہ نظام سے اسمگلنگ کی روک تھام کو مزید مؤثر بنا دیا گیا ہے۔
خنجراب پاس کہاں واقع ہے؟
پاکستان اور چین کے درمیان واقع خنجراب پاس دنیا کا بلند ترین زمینی سرحدی راستہ ہے، جو تقریباً 4,693 میٹر (15,397 فٹ) کی بلندی پر قراقرم پہاڑی سلسلے میں موجود ہے۔
یہ شاندار پاس پاکستان کے گلگت بلتستان کو چین کے صوبہ سنکیانگ سے جوڑتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دوستی کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔
برف سے ڈھکے پہاڑوں اور دلکش مناظر کی وجہ سے یہ جگہ سیاحوں کے لیے بھی بے حد پرکشش ہے، لیکن شدید سردی کے باعث سال کے کچھ مہینوں میں یہ بند رہتا ہے۔



