عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہو گیا ہے، برطانوی خام تیل 94 ڈالر سے تجاوز کرگیا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کو قرار دیا جارہا ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی تیل WTI Crude کی قیمت 87.06 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جس میں 23 سینٹ یعنی 0.26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح برطانوی تیل کی قیمت 94.39 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو 61 سینٹ یا 0.65 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
دوسری جانب اماراتی تیل کی قیمت 103.50 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی، جس میں 2.42 ڈالر یعنی 2.39 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قدرتی گیس کی قیمت بھی 2.773 ڈالر تک پہنچ گئی اور اس میں 0.040 ڈالر یعنی 1.46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے تیل کی منڈی کو متاثر کردیا
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بنیادی سبب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد مارکیٹ میں یہ خدشات بڑھے ہیں کہ ایران کی تیل برآمدات مزید متاثر ہوسکتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز میں تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل معمول سے کم سطح پر ہے، جس سے عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی طویل رکاوٹ کا عالمی تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو قیمتوں میں مزید تیزی آسکتی ہے، تاہم امریکہ، متحدہ عرب امارات اور وینزویلا سمیت دیگر ذرائع سے اضافی سپلائی عالمی منڈی میں کسی حد تک توازن برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔
حالیہ اضافے کے ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ کی قیمت میں ہفتے کے دوران تقریباً 6.39 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 5.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی تیل مارکیٹ میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا۔
عالمی قیمتوں کا پاکستان پر اثر
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ عالمی خام تیل کی قیمت، فریٹ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی لاگت، ٹیکسز اور دیگر اخراجات مجموعی طور پر مقامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
پاکستان میں اب پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر مقامی قیمتوں میں زیادہ تیزی سے منتقل کیا جاسکے۔
سونے کی قیمت میں تین دن کے دوران بڑا اضافہ
پاکستان میں بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سامنے آ رہے ہیں، حکومت نے 21 اگست 2026 سے پیٹرول کی قیمت میں 3.81 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.59 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ تازہ اضافے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
حالیہ عالمی صورتحال کے باعث اگر خام تیل کی قیمتیں موجودہ بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں یا مزید بڑھتی ہیں تو پاکستان میں بھی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔


