چینی وزارتِ خارجہ نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی دھمکی پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ ڈالنے کے حربے مسائل کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان کا بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام فریق سمجھ داری اور تحمل سے کام لیں۔ چین متعلقہ صورتِ حال کو قریب سے مانیٹر کرے گا۔
لین جیان نے مزید کہا کہ اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکا ان ممالک کے خلاف، جو ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہارا فراہم کر رہے ہیں، ”اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی“ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دنیا سے ایران کے ساتھ ہر قسم کا معاشی تعلق ختم کرے ، ایران سے تیل کی اسمگلنگ سمیت ہر قسم کا معاشی تعلق ختم کیا جائے، بصورت دیگر بڑے اقتصادی نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ کوئی بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں اور حکومتی اداروں کو ایران کے لیے کسی بھی قسم کی لائف لائن کا کردار ادا کرنے کی اجازت دے گا تو اسے شدید معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے تیل کی اسمگلنگ، کیش منتقلی، تبادلے، شپ رجسٹریز اور فرنٹ کمپنیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی اس کے ساتھ کھڑے ہوں اور ایران کو تنہا کرکے شکست سے دوچار کریں۔
جواب میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس اقدام کو امریکا کی جانب سے ”معاشی دہشتگردی“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ عالمی معیشت اور دنیا بھر میں ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔



