جوائنٹ اپوزیشن کا پہلا پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور پارلیمانی نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں پارلیمان کے اندرمشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے، ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال، امن و امان اورعدالتی معاملات سمیت مختلف امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی، اجلاس کے بعد اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج گھٹن کے ماحول میں اسمبلی کے حزب اختلاف کے ارکان ایک نقطے پر متفق ہوگئے ہیں، یہ خوشی اور مبارکباد کا دن ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اتحاد پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اللہ انہیں ہمت دے کہ وہ پاکستان کو موجودہ صورتحال سے نکال سکیں، ملک میں عام آدمی روٹی اور روزگار کیلئے پریشان ہے اور سیاسی قوتوں کو عوامی مسائل کے حل کیلئے اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی جوائنٹ اپوزیشن کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا، حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنے والی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشترکہ اپوزیشن کا کردار ادا کریں گی۔
ملک میں امن و امان کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک طرف ہماری سرزمین خون سے سرخ ہے جبکہ دوسری جانب حکمران سرخ قالینوں پر چل رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی تو ملکی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی، انہوں نے بھارت کی معاشی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، جبکہ پاکستان کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
عدلیہ کے حوالے سے انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی عدالتی درجہ بندی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں، کیونکہ اس سے بداعتمادی میں اضافہ ہوگا، کشمیر میں بھی لوگ سڑکوں پر ہیں اور موجودہ صورتحال کا سیاسی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے سیاسی ماحول بہتر بنانے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس اور مطالبات کو جوائنٹ اپوزیشن کے سفر کا پہلا قدم سمجھا جائے، اپوزیشن جماعتیں ملک میں سیاسی استحکام اور امن کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی۔

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ اتحاد ایسے مہینے میں سامنے آیا ہے جس میں رسول اکرم ﷺ کی ولادت ہوئی، اس لیے اپوزیشن کا متحد ہونا نیک شگون ہے۔
انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ معاشرے میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے اور لوگوں کی عزت و ناموس بھی محفوظ نہیں رہی۔
انہوں نے لڑکی حنا جاوید کے مبینہ قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
اپوزیشن رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جوائنٹ اپوزیشن پارلیمان کے اندر مشترکہ حکمت عملی کے تحت اپنا کردار ادا کرے گی اور عوامی، سیاسی، معاشی اور آئینی معاملات پر مشترکہ آواز بلند کی جائے گی۔
