چین میں ٹیسلا سمیت 9 بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے ہنگامی صورتحال میں دروازے کھولنے میں ممکنہ دشواری کے باعث مجموعی طور پر تقریباً 43 لاکھ گاڑیاں واپس منگوانے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے چین نے رواں سال الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کی نگرانی مزید سخت کردی ہے اور گاڑیوں کی حفاظت سے متعلق نئے ضوابط بھی متعارف کرائے ہیں۔
چینی حکام کے مطابق یہ ملک کی تاریخ میں گاڑیوں کی سب سے بڑی واپسی یعنی ’ریکال‘ ہے، جس میں مختلف کمپنیوں کی گاڑیاں شامل ہیں۔ گاڑیوں میں خرابی دور کرنے کے لیے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، وارننگ لیبلز اور دروازوں کے ہینڈلز کے اطراف بہتر نشانات لگانے جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔
چینی حکومت نے 2027 سے گاڑیوں میں چھپے ہوئے دروازے کے ہینڈلز پر پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ ڈیزائن ٹیسلا نے مقبول بنایا تھا اور بعد میں متعدد چینی الیکٹرک گاڑیوں میں بھی اسے اپنایا گیا۔
ریکال میں زیادہ تر گاڑیوں کے ہنگامی مکینیکل دروازہ کھولنے والے ہینڈلز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حادثے کے دوران یہ ہینڈلز تلاش کرنے یا استعمال کرنے میں مشکل ہوسکتے ہیں، جس کے باعث گاڑی میں پھنسے افراد کے باہر نکلنے یا امدادی کارکنوں کے لیے دروازے کھولنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔
ٹیسلا کی تقریباً 29 لاکھ 80 ہزار درآمد شدہ اور چین میں تیار کردہ گاڑیاں ریکال میں شامل ہیں۔ ان میں ماڈل تھری، ماڈل وائی، ماڈل ایس اور ماڈل ایکس شامل ہیں۔ ٹیسلا 25 ستمبر سے ان گاڑیوں کی واپسی شروع کرے گی۔
ٹیسلا کے مطابق شدید حادثے اور بجلی کا نظام متاثر ہونے کی صورت میں ہنگامی دروازہ کھولنے والے ہینڈلز کی شناخت مشکل ہوسکتی ہے۔ کمپنی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے حادثے کے بعد گاڑی کی کھڑکیوں کو خود کار طور پر نیچے کرنے کا نظام بھی بہتر کرے گی۔
ریکال میں شاؤمی کی تقریباً 3 لاکھ 90 ہزار، لیپ موٹر کی 3 لاکھ 71 ہزار اور ایکس پینگ کی تقریباً 2 لاکھ 64 ہزار گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق جدید گاڑیوں میں اوور دی ایئر سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے باعث بڑے پیمانے پر ریکال کی لاگت اور گاڑیوں کو ورکشاپ میں رکھنے کا وقت ماضی کے مقابلے میں کم ہوسکتا ہے۔
ادھر امریکا میں بھی گاڑیوں کے چھپے ہوئے دروازے کے ہینڈلز پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ امریکی ادارے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے بجلی کی خرابی کے دوران گاڑی میں افراد کے پھنسنے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے نئے حفاظتی معیارات پر غور شروع کردیا ہے۔



