آزاد جموں کشمیر کے ضلع نیلم ویلی کے ایک جنگل سے 2 سگے بھائیوں سمیت 3 نوجوانوں کی گلا کٹی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
نوجوانوں کی شناخت ناصر، یاسر اور فیصل کے نام سے ہوئی، تینوں لاشیں جاگراں جنگل میں ایک نالے سے ملیں۔
ورثا کے مطابق چولائی کے رہائشی حقیقی بھائیوں ناصر اور یاسر کی لاشوں کے گلے کٹے ہوئے تھے جبکہ فیصل کی لاش سے تازہ خون بہہ رہا تھا۔
ورثا کا کہنا ہے تینوں نوجوان 2 ماہ سے زائد عرصے سے لاپتا تھے، 6 جون کو جڑی بوٹیاں تلاش کرنے کے لیے جاگراں جنگل گئے تھے، تاہم 7 جون کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
لاپتا نوجوانوں کے اہل خانہ نے ان کی گمشدگی کی رپورٹس مختلف تھانوں میں درج کرائی تھیں۔ ورثا کے مطابق 2 ماہ سے زائد عرصے تک تلاش کے باوجود تینوں نوجوانوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔
اطلاع ملنے پر پولیس نے تینوں لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا۔
ایس ایچ او وجاہت کاظمی نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق تینوں نوجوانوں کی گمشدگی کی رپورٹ پہلے ہی درج تھی اور لاشوں کی شناخت کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ایس ایچ او نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ وادی نیلم آزاد جموں کشمیر کا ایک خوبصورت اور پرسکون سیاحتی مقام ہے جہاں بالخصوص گرمیوں میں سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اس پر امن علاقے سے یوں 3 مقامی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے سے مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
