امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں کوئی بھی صدر نہیں بننا چاہتا جو میرے لیے ایک مسئلہ ہے۔
جنوبی کیرولائنا میں سینیٹر ڈارلین گراہم کی حمایت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران دنیا کا واحد ملک ہے جہاں جب پوچھا جاتا ہے کہ صدر کون بنے گا تو جواب ملتا ہے کہ نہیں ، میں صدر نہیں بننا چاہتا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ ایران میں کس سے بات کی جائے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ اور دوسری سطح کی قیادت بھی ختم ہو چکی ہے، تیسری سطح کی قیادت کے بھی کچھ ارکان مارے جا چکے ہیں ، ایران کے پاس اب بحریہ، فضائیہ، ریڈار، فنی آلات اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری کی صلاحیت نہیں رہی۔
علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس فوجیوں اور پولیس کو تنخواہ دینے کے لیے رقم نہیں۔ ایران میں افراط زر ساڑھے تین سو فیصد ہے، ایرانی حکومت کے پاس رقم نہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ڈیل تو کرنا چاہیں گے مگر وہ درست ڈیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے ایران کے اگلے اقدامات تک انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اپنانے کا اشارہ دیدیا۔



