ایران کے نئے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو “نیا امریکی علاقہ” قرار دینے پر کہا ہے کہ واشنگٹن اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوانے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے، اس کے باوجود وہ اس پر ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔
ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں محسن رضائی نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’آبنائے ہرمز دوبارہ کھلوانے میں امریکا کی ناکامی اور اس پر ملکیت کے دعوے کے درمیان فرق واشنگٹن اور آبنائے ہرمز کے درمیان 7 ہزار میل کے فاصلے سے بھی زیادہ ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ’’خلیج فارس میں امریکا کے بعد کے نئے عالمی نظام میں خوش آمدید۔‘‘
The gap between America’s inability to reopen the Strait of Hormuz and its claim to own it is greater than the 7,000-mile distance between Washington and the Strait itself.
Welcome to the post-American order in the Persian Gulf. pic.twitter.com/nC7VBCPILH— محسن رضایی (@ir_rezaee) August 18, 2026
رضائی نے اپنے پیغام کے ساتھ ایک نقشہ بھی شیئر کیا جس میں واشنگٹن اور آبنائے ہرمز کے درمیان طویل فاصلے کو ایک لمبی لائن سے واضح کیا گیا جبکہ ایران اور ہرمز کے درمیان فاصلے کو “ٓصفر میل” دکھایا گیا۔
نقشے پر درج تھا، ’’کچھ خواب حقیقت سے بہت دور ہوتے ہیں۔‘‘
‘آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول، ایران سے مذاکرات معطل ‘
ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز ’’کھلی اور فعال‘‘ ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کروں گا، ٹرمپ
ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ نہ تو کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ ہی کسی بات چیت کا شیڈول طے ہے۔ یہ بیان ان کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر کے اس مؤقف سے متضاد تھا جس میں انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ’’انتہائی مثبت اور فعال‘‘ رابطوں کا ذکر کیا تھا۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ آبی گزرگاہ میں موجود تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کی بحالی کو امریکا کی جانب سے متعدد مطالبات پورے کرنے سے مشروط کر رکھا ہے۔
ان مطالبات میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھانا، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنا، امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنا، اور جنگی نقصانات کا مالی ازالہ کرنا شامل ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔
