ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور سابق پاسداران انقلاب کمانڈر محسن رضاعی نے کہا ہے کہ ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔
چینی سفیر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے محسن رضاعی نے کہا کہ امریکا کو جنگ ختم کرنا ہوگی اور ایران کے منجمد فنڈز بحال کرنا ہوں گے۔، انہوں نے کہا کہ ایران کی دیگر شرائط بھی ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی گئی ہیں۔
Mohsen Rezai, the new secretary of Iran's Supreme National Security Council, on Tuesday said that "the Strait of Hormuz will not be opened until the United States changes its behavior and accepts Iran's conditions" – State TV
"The United States must end the war, release the… pic.twitter.com/2mwB9jn89Z
— The New Region (@thenewregion) August 11, 2026
محسن رضاعی کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ الگ معاملہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ کا مکمل خاتمہ بھی ضروری ہے، جس میں لبنان اور غزہ سمیت دیگر محاذ شامل ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ امریکا کے رویے میں تبدیلی اور ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے سے جڑا ہوا ہے۔
ایرانی حکام اس سے قبل بھی واضح کرچکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ امریکی اقدامات اور ایران کی شرائط پر پیش رفت سے مشروط ہے۔
امریکا نے مذاکرات کی بھیک مانگی ، ایران نے خود کو ناقابل شکست طاقت ثابت کیا ، عباس عراقچی
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت کو آبنائے ہرمز کے فوری دوبارہ کھلنے کی علامت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
