ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی ٹوئٹ، بحری جہاز، حکم نامے یا انتخابی تقریر کے ذریعے قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکا کے کسی بھی اختیار یا ملکیت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے فیصلہ ایران خود کرے گا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی کنٹرول میں رہے گی۔
BREAKING: Iran says Washington has no authority over the Strait of Hormuz, with Deputy Foreign Minister Kazem Gharibabadi declaring that the waterway will remain under Iranian control.
Gharibabadi said Iran alone will decide when the Strait is opened or closed, warning President…
— The Iranian Letter (@TheIranianzg3z) August 15, 2026
غریب آبادی کے مطابق آبنائے ہرمز کو کب کھولنا یا بند کرنا ہے، اس کا فیصلہ ایران ہی کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے شکست کی حقیقت تسلیم کیے جانے تک ایران آبنائے ہرمز کی موجودہ بندش برقرار رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دھمکیوں یا طاقت کے مظاہرے سے خوف زدہ نہیں ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کروں گا، ٹرمپ
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق قطر اور پاکستان، جو ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مختلف فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ان رابطوں کو مذاکرات کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
