لندن: بیلجیم کے علاقے مشرقی فلینڈرز میں مکان کی مرمت کے دوران مزدوروں کو دیواروں کے اندر سے اربوں روپے مالیت کا سونا مل گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مکان میں نئے سیوریج پائپ بچھانے کے لیے ڈرلنگ کا کام جاری تھا کہ اچانک دیواروں کے اندر سے سونے کی اینٹیں اور سکے برآمد ہو گئے۔
برآمد ہونے والے سونے کے سکوں اور اینٹوں کی مالیت تقریباً 90 لاکھ یورو بنتی ہے۔ جس کی پاکستانی کرنسی میں مالیت تقریباً 2 ارب 89 کروڑ روپے ہے۔
پولیس کے مطابق موقع پر موجود 18 سالہ طالب علم اور مزدور نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں لگا کہ شاید عام سکے ہیں، تاہم سونے کی اینٹ سامنے آنے کے بعد انہیں خزانے کی اصل مالیت کا اندازہ ہوا۔ خزانہ ملنے پر مزدوروں نے اسے چھپانے کے بجائے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
سائٹ مینیجر ماریو اور مزدور کوبے نے کہا کہ اتنی بڑی مالیت کا سونا اپنے پاس رکھنا نہ صرف ناممکن تھا بلکہ قانون کے تحت چوری کے زمرے میں بھی آتا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام سونا اپنی تحویل میں لے لیا اور اسے محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔
حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ مزید خزانے کی تلاش کے لیے مذکورہ مقام کا رخ نہ کریں۔
Construction workers in Belgium just hit the jackpot, uncovering 49 gold bars and a bucket of gold coins worth an estimated $10.4 million while digging a sewer system.
Police collected the haul and secured it in a government vault, but authorities still don’t know where the… pic.twitter.com/tOSHesY3RX
— Complex (@Complex) August 15, 2026
واضح رہے کہ مذکورہ مکان اس وقت مشرقی فلینڈرز کے ایک فلاحی ادارے کی ملکیت ہے جو ضرورت مند افراد کی مدد کرتا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر گیرٹ ہلائرٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر قانونی طور پر خزانہ ادارے کو مل گیا تو اسے فلاحی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کھیت میں چھپائے لاکھوں روپے کا ایک سال بعد ایسا انجام، کسان کے ہوش اڑ گئے
بیلجیم کے قانون کے مطابق خزانے کے اصل مالک کو اس پر دعویٰ کرنے کے لیے 5 سال کا وقت حاصل ہے۔ اگر مقررہ مدت میں کوئی دعویدار سامنے نہیں آتا اور تحقیقات سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ سونا کسی مجرمانہ سرگرمی سے منسلک نہیں، تو قانون کے تحت خزانہ اسے تلاش کرنے والے مزدوروں اور جائیداد کے مالک فلاحی ادارے کے درمیان تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
