سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدررجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سمیت اہم امور پر غور کیا گیا۔
سعودی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔
شاہ سلمان نے مکہ مکرمہ میں اجلاس کے انعقاد اور معاہدے کی پیش رفت پر سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کا بھی شکریہ ادا کیا۔
#BREAKING: King Salman thanks Crown Prince Mohammed bin Salman, Turkish President Erdogan and Pakistani PM Shehbaz Sharif for their efforts at the Makkah Joint Defense Summit, which affirmed the deep historical ties among the three countries and their commitment to strengthening… pic.twitter.com/0RUidPGBC2
— Saudi Gazette (@Saudi_Gazette) August 11, 2026
سعودی فرمانروا نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طویل المدتی دفاعی شراکت داری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک دفاعی تعاون، رابطہ کاری اور یکجہتی مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
سعودی کابینہ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ تینوں ممالک کے درمیان تعاون علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ میں معاون ہوگا۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کی سلامتی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ سعودی کابینہ کے مطابق دونوں اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی عالمی تجارت اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں شاہ سلمان نے کہا کہ نیا دفاعی فریم ورک سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ تعاون، رابطہ کاری اور انضمام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہوگا۔
شاہ سلمان کے مطابق یہ شراکت داری علاقائی چیلنجز سے نمٹنے، عالمی سلامتی اور استحکام کے تحفظ اور خطے سمیت دنیا بھر کے عوام کے لیے زیادہ ترقی یافتہ اور خوشحال مستقبل کی خواہشات کی تکمیل میں مدد دے گی۔
یہ بیان سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے گزشتہ ہفتے مکہ مکرمہ میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
#خادم_الحرمين_الشريفين يُشِيد بالنتائج التي حققتها القمة الثلاثية في ترسيخ إطار شراكة دفاعية طويلة المدى؛ ستسهم -بمشيئة الله تعالى- في تعزيز مسيرة التعاون المشترك ومسارات التنسيق والتكامل بين المملكة العربية السعودية والجمهورية التركية وجمهورية باكستان الإسلامية، ومواصلة الجهود… pic.twitter.com/bYMDnR052I
— واس الأخبار الملكية (@spagov) August 11, 2026
تینوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدہ دیرینہ تاریخی تعلقات، اخوت و اسلامی یکجہتی، مشترکہ تزویراتی مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق کے عین مطابق ہے۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی واضح کیا کہ معاہدہ تینوں ممالک یا دیگر ریاستوں اور تنظیموں کے ساتھ موجود دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدوں کو ختم یا تبدیل نہیں کرتا۔
ترک نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مہمت اوزکان نے معاہدے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے رابطہ کاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب ہیں، خواجہ آصف
ان کے مطابق یہ ایک بڑے منصوبے کا آغاز ہے اور مستقبل میں تینوں ممالک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔
ڈاکٹر مہمت اوزکان نے مکہ دفاعی معاہدے کو ترکیہ کی نیٹو رکنیت کے لیے چیلنج قرار دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ موجودہ سیکیورٹی انتظامات کا متبادل نہیں بلکہ ان کے ساتھ معاون حیثیت رکھتا ہے۔
