بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ہزاروں طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں نے ریاستی اسمبلی کی جانب مارچ کیا، جسے منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
مقامی میڈیا پرنشرہونے والی فوٹیج کے مطابق مظاہرین نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، قومی پرچم لہرائے اورامتحانی نظام میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف نعرے لگائے۔
بعض مظاہرین نے پولیس بیریئرز کو دھکیلنے کی کوشش کی اور اہلکاروں سے ہاتھا پائی بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
رانچی کے سٹی پولیس چیف پارس رانا نے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ بعض مظاہرین کے پرتشدد ہونے کے بعد پولیس کو محدود طاقت استعمال کرنا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین زیادہ تر طلبہ ہیں، اس لیے پولیس نے مختصر وقت کیلئے کم سے کم طاقت استعمال کی۔
جھارکھنڈ میں طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کا احتجاج 25 جولائی سے جاری ہے جبکہ ریاستی دارالحکومت رانچی میں ایک اسٹیڈیم کے باہر ہزاروں افراد کے جمع ہونے کے بعد احتجاج میں شدت آئی۔
مظاہرین سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کی شکایات پر امتحانی نظام میں اصلاحات، بعض امتحانات منسوخ کرنے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ احتجاج بھارت میں نوجوانوں کی جانب سے امتحانی نظام میں مبینہ بدعنوانی، روزگار کے مواقع کی کمی اور بے روزگاری کے خلاف جاری مظاہروں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
بھارت میں “کاکروچ موومنٹ” کا پارلیمنٹ کیجانب مارچ، پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج
ریاستی حکومت، جو وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کی مخالف علاقائی سیاسی جماعت کے زیرانتظام ہے، مظاہرین سے مذاکرات کرچکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے بیشتر مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں اور مزید مذاکرات کیلئے بھی تیار ہے۔
دریں اثنا، نئی دہلی میں بھی گزشتہ ہفتوں کے دوران امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف نوجوانوں کے بڑے احتجاج دیکھنے میں آئے، جن کے بعد بھارت کے وزیر تعلیم دھرمندر پردھان نے گزشتہ ماہ استعفیٰ دے دیا تھا۔
