اسکاٹ لینڈ کرکٹ اور رائل ڈچ کرکٹ ایسوسی ایشن (کے این سی بی) نے آئی سی سی کی جانب سے 2027 کے مردوں کے ون ڈے ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں تبدیلی کے فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایسوسی ایٹ ممالک کی کرکٹ کیلئے نقصان دہ قرار دے دیا۔
آئی سی سی نے گزشتہ ماہ ورلڈ کپ کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک نئی ’’سپر سیریز‘‘ شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفائی کرنے والی 12ویں، 13ویں اور 14ویں ٹیمیں سہ فریقی سیریز کھیلیں گی، جس میں سے صرف ایک ٹیم ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں جگہ بنا سکے گی، دوسرے مرحلے میں 12 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔
فارمیٹ میں تبدیلی کے اعلان کے بعد اسکاٹ لینڈ کرکٹ، کے این سی بی اور دیگر ایسوسی ایٹ بورڈز نے آئی سی سی کے ساتھ دو اجلاس کیے۔
ان اجلاسوں میں نئے فیصلے کے حوالے سے باضابطہ تحریری وضاحت، طریقۂ کار پر مزید شفافیت اور مستقبل کے فیصلوں میں ایسوسی ایٹ ممبرز کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
تاہم دونوں بورڈز کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دوسرے اجلاس کے دو ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آئی سی سی کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، جو ان کے بقول ’’مایوس کن اور توہین آمیز‘‘ رویہ ہے۔
اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز کرکٹ بورڈز نے کہا کہ ورلڈ کپ فارمیٹ میں اچانک تبدیلی ایسوسی ایٹ ممبرز کی کرکٹ کیلئے ایک قدم پیچھے ہے اور عالمی کرکٹ کی ترقی کیلئے گزشتہ برسوں میں کی گئی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب کرکٹ عالمی سطح پر اپنی رسائی بڑھانے، نئے شائقین کو متوجہ کرنے اور کھیل کو مزید عالمی بنانے کی کوشش کر رہی ہے، ابھرتی ہوئی ٹیموں کیلئے عالمی مقابلوں کے مواقع کم کرنا غلط پیغام دیتا ہے۔
دونوں بورڈز نے مؤقف اختیار کیا کہ ورلڈ کپ میں جگہ بنانے کیلئے کھلاڑی اور کرکٹ بورڈز کئی برس محنت اور وسائل صرف کرتے ہیں، اس لیے کوالیفائنگ مرحلے کے دوران اچانک قواعد تبدیل کرنے سے منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور مالی و انتظامی دباؤ بڑھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شرکت ایسوسی ایٹ ممالک کیلئے صرف ایک کھیل کا موقع نہیں بلکہ سرمایہ کاری، اسپانسرز اور حکومتی تعاون حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان کھلاڑیوں اور شائقین کیلئے تحریک کا باعث بھی بنتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آئی سی سی کے عالمی مقابلوں میں ایسوسی ایٹ ممالک کی جانب سے فل ممبرز ٹیموں کو شکست دینے سمیت کئی یادگار لمحات سامنے آچکے ہیں، جو اس اصول کو مضبوط کرتے ہیں کہ کامیابی میدان میں کارکردگی کی بنیاد پر حاصل ہونی چاہیے۔
اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز نے کہا کہ فارمیٹ میں تبدیلی کا وقت بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ ورلڈ کپ شروع ہونے میں 18 ماہ سے بھی کم عرصہ باقی ہے، جس کے باعث متاثرہ ممالک کے پاس فیصلے پر اثرانداز ہونے یا اپنی منصوبہ بندی تبدیل کرنے کیلئے محدود وقت رہ گیا ہے۔
دورہ انگلینڈ میں بابر اعظم کو میڈیا سے دور رکھا جائے، راشد لطیف کا پی سی بی کو مشورہ
دونوں بورڈز نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ ایسوسی ایٹ ممبرز کے ساتھ دوبارہ بامعنی مذاکرات کیے جائیں، فیصلوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور مستقبل کے اہم انتظامی معاملات میں تمام ممبرز کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔
ورلڈ کپ 2027 کی کوالیفائنگ دوڑ میں امریکا، اسکاٹ لینڈ، نیدرلینڈز اور عمان ورلڈ کپ کوالیفائر کیلئے جگہ بنا چکے ہیں، جبکہ نمیبیا، کینیڈا، نیپال اور متحدہ عرب امارات کوالیفائر پلے آف میں حصہ لیں گے۔ عالمی کوالیفائر فروری 2027 میں شیڈول ہے، جس سے نئے فارمیٹ کے تحت ورلڈ کپ میں جگہ بنانے کی دوڑ مزید اہم ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کی میزبانی میں ہونے والے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے نئے فارمیٹ کا اعلان کیا تھا جس میں 2027 کا ورلڈ کپ 10 کے بجائے 14 ٹیموں پر مشتمل ہوگا، جس کیلئے تین مرحلوں پر مشتمل نیا فارمیٹ متعارف کرایا گیا ہے تھا۔
آئی سی سی کے مطابق نئے فارمیٹ کا مقصد زیادہ مسابقتی کرکٹ کو یقینی بنانا اور شائقین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے، ٹورنامنٹ سیمی فائنل اور فائنل سے قبل تین مختلف مراحل میں کھیلا جائے گا، جس کے ذریعے ٹیموں کو عالمی سطح پر مزید مواقع ملیں گے۔
