ایران کی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہان شاہی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی فوجی نے ایرانی سرزمین پر قدم رکھا تو اسے زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنرل علی جہان شاہی نے کہا کہ دشمن کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
ایرانی کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی زمینی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ملک کی سرحدوں پر مسلسل نگرانی جاری ہے۔
امریکا کی جانب سے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی تک بات چیت نہیں ہو گی، ایرانی وزیر خارجہ
علاوہ ازیں ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کُھلنے کا انحصار امریکا کی جانب سے ایران کی تمام شرائط قبول کرنے پر ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ایران کے مخصوص طریقۂ کار مشروط ہے۔ اس کا ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے تحت اب تک 55 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا ہے۔ یہ تعداد گزشتہ روز بتائے گئے 53 بحری جہازوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔
ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلنے پر فتح کا اعلان کرنے والے تھے، وال اسٹریٹ جرنل کا انکشاف
سینٹکام کے مطابق اس وقت 20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں، جو مختلف فوجی مشنز میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر سختی سے عملدرآمد بھی شامل ہے۔
