قصور شہر اور گردونواح میں ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث نواحی گاؤں کھارا میں دو مختلف مقامات پر گھروں کی چھتیں گرنے سے خاتون سمیت دو افراد جاں بحق ہوگئے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق دونوں حادثات شدید بارش کے دوران پیش آئے، جب گھروں کی چھتیں اچانک زمین بوس ہوگئیں اور ملبے تلے افراد دب گئے۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکال لیا، تاہم دونوں افراد جانبر نہ ہوسکے۔
جاں بحق افراد کی لاشیں ضروری قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کردی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی
قصور میں موسلادھار بارش کے باعث شہر کے مختلف نشیبی علاقے بھی زیرِ آب آگئے۔ کوٹ مراد خان، قادر آباد، رحمان پورہ سمیت متعدد علاقوں میں سڑکوں اور گلیوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کے مطابق مسلسل بارش کے باعث نکاسی آب کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور پانی کی بروقت نکاسی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
دریائے سندھ میں ڈوبنے والے نوجوانوں کی تلاش جاری
دوسری جانب حیدرآباد میں دریائے سندھ میں کوٹری پل کے مقام پر نہاتے ہوئے تین نوجوان ڈوب گئے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق 13 سے 14 سال کے درمیان عمر کے تینوں لڑکے گزشتہ روز دریائے سندھ میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے تھے۔ تینوں نوجوان حیدرآباد کے تعلقہ لطیف آباد کے رہائشی ہیں۔
اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیموں نے کشتی اور اسکوبا ڈائیونگ کی مدد سے تینوں لڑکوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا۔ تاہم گزشتہ رات کم روشنی اور حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے باعث آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا تھا۔
جڑواں شہروں میں بارش، نشیبی علاقے زیرآب، 6 سالہ بچہ نالے میں ڈوب گیا
ریسکیو حکام کے مطابق صبح ہوتے ہی تینوں ڈوبنے والے نوجوانوں کی تلاش کا آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا ہے، جس میں کشتی اور اسکوبا ڈائیونگ کی مدد سے دریائے سندھ میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تینوں لڑکوں کے کپڑے اور چپلیں دریائے سندھ کے کنارے موجود ہیں۔ دریا کنارے موجود افراد نے نوجوانوں کو ڈوبتے دیکھ کر ریسکیو ٹیم کو اطلاع دی تھی، جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
