واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق تین کمپنیوں اور دو طیاروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بعض عراقی فضائی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق فلائی بغداد، عراق ایکسپریس اور ان سے وابستہ دیگر کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں پر ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
محکمہ خزانہ نے ان کمپنیوں سے منسلک دو طیاروں پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے کی تصدیق کی ہے۔
پابندیاں ختم کیے جانے کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 75.06 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل 78.83 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
🚨 BREAKING:
7:00 PM 🇺🇸 Donald Trump A $300 billion private investment fund for Iran has been announced. Economic incentives are being offered in exchange for peace. If conditions improve, Iran could become economically prosperous.
7:15 PM 🇺🇸 Marco Rubio Sanctions on Iran will… pic.twitter.com/hNoLxC1gX0
— G-Axis (@GAxisInfo) August 5, 2026
ماہرین کے مطابق پابندیوں میں نرمی کی خبر نے عالمی توانائی منڈی میں رسد سے متعلق توقعات کو تقویت دی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق ایک بڑے نجی سرمایہ کاری منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کا نجی سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد امن کے بدلے معاشی مراعات فراہم کرنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اگر حالات بہتر ہوتے ہیں تو ایران معاشی طور پر خوشحال ملک بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور بہتر تعلقات کی صورت میں ایران کے لیے اقتصادی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک تہران مکمل طور پر جوہری معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔
عمان سے معاہدے کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں، آبنائے ہرمز فوری نہیں کھلے گی، ایران
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ “غلط رویے پر کوئی انعام نہیں دیا جائے گا” اور ایران کو جوہری معاہدوں کی مکمل تعمیل کرنا ہوگی۔
امریکی حکام کے بیانات میں ایک جانب ایران کے لیے اقتصادی مواقع کا عندیہ دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب جوہری معاملات پر سخت شرائط برقرار رکھنے کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔
