مردان: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 20 ستمبر سے ملک کے کونے کونے سے عوام کا سمندر اسلام آباد کی جانب چلے گا، دوسری جانب حکومت نے جماعت اسلامی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی سے ٹرین مارچ شروع ہوگا جبکہ روہڑی، حیدرآباد اور دیگر مقامات سے بھی لوگ اس میں شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عوام کے موڈ کا اندازہ کریں، ایک دن میں کئی کئی جلسے عوام کے جوش و خروش کا ثبوت ہیں، سوات، بٹ خیلہ، دیر، کراچی، لاہوراور گوجرانوالہ کے جلسے عوام کے اعتماد کا اظہار ہیں۔
امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ہر روز عوام پر پٹرول بم گرائے جا رہے ہیں، عالمی مارکیٹ کی آڑ میں عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان میں عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ پٹرول پر 80 روپے لیوی اور 21 روپے کسٹم ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے، جبکہ آئل ریفائنریز اور مارکیٹنگ کمپنیاں الگ سے لوٹ مار کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرکے اپنی حجت تمام کی اور ورکنگ کرکے پٹرولیم لیوی کا متبادل بھی حکومت کو پیش کیا، تاہم عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں ملا۔
امیر جماعت اسلامی نے سود کے خاتمے کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف حکومت سپریم کورٹ گئی اور سود میں بتدریج کمی کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب کمی کے بجائے اضافہ کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بائیک اور رکشہ چلانے والوں سے ساڑھے سولہ سو ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔
ملک میں ایک طرف موروثی سیاست اور دوسری طرف شخصیت پرستی کی سیاست ہے۔ قوم اربوں روپے کے جہاز اور سرکاری خرچ پر لندن کے نجی دورے برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے، حکومت اور ادارے مارچ روکنا چاہتے ہیں تو پٹرولیم لیوی ختم کریں۔
ہمیں اسلام آباد مارچ کرنے کا کوئی شوق نہیں، لیکن عوام کے کندھوں سے بوجھ نہ اتارا گیا تو چاروں طرف سے اسلام آباد پہنچیں گے، کوئی روک سکتا ہے تو روک لے، جماعت اسلامی اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوگی۔
حکومت کا جماعت اسلامی سے رابطہ
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات پر احتجاج کے معاملے پر حکومت نے جماعت اسلامی کے درمیان ایک بار پھر رابطہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیرجماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا اورکہا کہ حکومت معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔
احسن اقبال نے جماعت اسلامی کو کل مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ وہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اور سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد حکومت کو جواب دیں گے، پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے اب تک 5 دور ہوچکے ہیں۔



