اسرائیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد نئے آنے والے افراد سے بڑھ گئی ہے، جسے ماہرین نے اسرائیلی معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور حکومتی کارکردگی پر کمزور ہوتے اعتماد کا واضح اشارہ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نیوز کے مطابق نیشنل انشورنس انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 اور 2025 کے دوران 82 ہزار سے زائد افراد کا نام اسرائیل کے قانونی رہائشیوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ان افراد کے لیے کیا گیا جو پانچ سال سے زائد عرصے سے بیرونِ ملک مقیم ہیں یا جنہوں نے باضابطہ طور پر اپنی اسرائیلی رہائش ختم کر دی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہزاروں ایسے اسرائیلی بھی ہیں جو ابتدا میں عارضی طور پر بیرونِ ملک گئے تھے، مگر اب مستقل طور پر وہیں آباد ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
دوسری جانب معروف مالیاتی اخبار گلوبز کے مطابق غیر ملکی پاسپورٹ اور شہریت کے لیے درخواستوں کے لحاظ سے اسرائیل دنیا میں آٹھویں نمبر پر پہنچ گیا ہے، جو شہریوں کی جانب سے متبادل مستقبل کی تلاش کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں، یرغمالیوں کے بحران اور اس کے بعد جاری جنگ نے اسرائیلی عوام میں عدم تحفظ کے احساس کوغیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں ایک اسرائیلی شہری کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس نے اپنے خاندان کے محفوظ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمن شہریت کے لیے درخواست دی۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ اسرائیلی یورپی پاسپورٹ رکھتے ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد امریکی یا روسی شہریت رکھتی ہے یا اس کی اہل ہے۔
جرمنی اسرائیلی تارکینِ وطن کے لیے یورپ کی سب سے بڑی منزل بن کر سامنے آیا، جہاں تقریباً 18 فیصد اسرائیلی منتقل ہوئے اس کی ایک بڑی وجہ جرمنی کے وہ قوانین ہیں جن کے تحت ہولوکاسٹ کے متاثرین کی اولاد کو جرمن شہریت حاصل کرنے میں نسبتاً آسانی دی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فلسطینی اور یہودی آبادی کے تناسب میں تبدیلی، سکیورٹی خدشات، حکومت پرعوامی اعتماد میں کمی اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں پر بڑھتی تنقید نے بھی اس رجحان کو تقویت دی ہے۔
اسرائیل کی محمود احمدی نژاد کو ایران کی ممکنہ نئی قیادت کیلئے تیار کرنے کی کوشش، منصوبہ ناکام
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طورپرتعلیم یافتہ، ہائی ٹیک شعبے سے وابستہ اور لبرل طبقے کے افراد اپنے بچوں کے مستقبل اورعالمی سطح پراسرائیل کی بڑھتی تنہائی کے باعث بیرونِ ملک مستقل رہائش اختیارکرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے اسرائیلی معاشرے میں ریاستی تحفظ پر اعتماد میں نمایاں کمی کا تاثر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔
