اسرائیل نے محمود احمدی نژاد کو ایران کی ممکنہ نئی قیادت کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے 2024 اور 2025 کے دوران ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا سے خفیہ ملاقاتیں کیں، جہاں اسرائیل نے مبینہ طور پر انہیں ایران میں ممکنہ رجیم تبدیلی کی صورت میں نئی قیادت کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور احمدی نژاد اب بھی ایران میں موجود ہیں، بتایا گیا ہے کہ انہیں گزشتہ ہفتے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق احمدی نژاد کی یہ ملاقاتیں بوڈاپیسٹ کی لودوویکا یونیورسٹی آف پبلک سروس میں لیکچر دینے کی دعوت کی آڑ میں ہوئیں، جہاں ان کی ملاقات اس وقت کے موساد چیف ڈیوڈ برنیا سے کرائی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے بھی اس منصوبے سے آگاہ تھا۔

اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے احمدی نژاد کو بیرون ملک سفر اور رہائش کے لیے خفیہ مالی معاونت بھی فراہم کی، جبکہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے کافی عرصے سے ایرانی قیادت سے ان کے بڑھتے ہوئے اختلافات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ احمدی نژاد کو گزشتہ برسوں میں تین مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ ایرانی نظام سے مایوس ہوتے گئے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ احمدی نژاد نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا تھا کہ اگر ایران میں رجیم تبدیلی یا جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو وہ ایک اصلاح پسند رہنما کا کردار ادا کر سکتے ہیں حتیٰ کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دھمکیوں سے نہیں کھلے گی، ایران کا دوٹوک اعلان
اخبار کے مطابق بعد ازاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو ان پر شبہ ہوا اور ان کے اسرائیل سے مبینہ روابط کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت احمدی نژاد پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ کی نگرانی میں نظر بند ہیں۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری 2025 میں اسرائیل نے ان کے کمپاؤنڈ پر حملہ بھی کیا تاکہ انہیں وہاں سے نکالا جا سکے، تاہم بعد ازاں وہ اسرائیلی منصوبے سے بددل ہو گئے۔
