فٹبال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے، لیکن حالیہ طبی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ گیند کو بار بار سر سے مارنا (ہیڈنگ) اور کھیل کے دوران سر پر لگنے والی چوٹیں دماغی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ باقاعدہ ورزش اور فٹبال کھیلنا جسمانی و ذہنی صحت کے لیے مفید ہے، تاہم کھلاڑیوں کو سر کی حفاظت کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بار بار سر پر لگنے والے معمولی جھٹکے بھی وقت کے ساتھ یادداشت، توجہ اور دماغی افعال کو متاثر کر سکتے ہیں۔
شہزادہ ولیم کا ارجنٹینا سے شکست کے بعد انگلینڈ فٹبال ٹیم کیلئے جذباتی پیغام
ڈاکٹروں کے مطابق پیشہ ور فٹبالرز میں دماغی بیماریوں، خصوصاً الزائمر اور دیگر اعصابی امراض، کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ اسی وجہ سے کئی ممالک میں کم عمر کھلاڑیوں کے لیے ہیڈنگ پر پابندیاں یا سخت ہدایات نافذ کی جا چکی ہیں۔
ماہرین کی سفارشات کے مطابق:
• اگر کسی کھلاڑی کے سر پر چوٹ لگے تو اسے فوراً کھیل سے باہر نکالا جائے۔
• دماغی چوٹ (کنکشن) کی علامات جیسے چکر آنا، متلی، دھندلا نظر آنا یا بے ہوشی کو ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے۔
• مکمل طبی معائنے اور صحت یابی کے بعد ہی کھلاڑی کو دوبارہ میدان میں اترنے کی اجازت دی جائے۔
• بچوں اور نو عمر کھلاڑیوں میں غیر ضروری ہیڈنگ سے گریز کیا جائے اور محفوظ تربیتی طریقے اپنائے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب احتیاطی تدابیر، درست کوچنگ، قوانین پر عمل اور بروقت طبی امداد کے ذریعے فٹبال کے فوائد سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دماغی چوٹوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
