اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو مجوزہ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد اور پنجاب کے کئی اضلاع میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز اور پولیس کو پرتشدد حملوں کی صورت میں دفاعی کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں رینجرز اور پولیس کو کسی بھی پرتشدد سرگرمی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ جبکہ رینجرز اہلکار امن و امان برقرار رکھنے اور سکیورٹی معاونت کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
قبل ازیں حکومت پنجاب نے وفاقی حکومت سے صوبے کے مختلف شہروں میں رینجرز تعینات کرنے کی درخواست کی تھی۔
رینجرز کے دستوں کی تعیناتی کے لیے حکومت پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ لکھا تھا جس میں راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں تعیناتی کے لیے رینجرز کے دستے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔
مراسلے میں کہا گیا تھا کہ راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستے 5 اکتوبر 2026 تک تعینات ہوں گے۔ ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیاں، اٹک میں 5 ونگز، جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک ایک کمپنی تعینات ہو گی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ رینجرز کی تعیناتی کے لیے کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 59ویں اجلاس میں منظوری دی گئی جبکہ وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ پنجاب پولیس کی درخواست پر سکیورٹی میں معاونت کے لیے لکھا گیا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب وفاقی اور پنجاب حکومت نے مجوزہ احتجاج کو ملکی امن و امان کے لیے خطرہ اور ‘انتشار پھیلانے کو کوشش’ قرار دیتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی، اور عظمیٰ خان نظر بند ہیں جبکہ پارٹی کے مطابق ان کے دیگر رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں غیر قانونی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
وفاقی دارالحکومت، سندھ اور پنجاب میں دفعہ 144 نافذ
گزشتہ روز پنجاب، بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں جبکہ اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے علاج و رہائی اور دیگر مطالبات کے حق میں 27 ستمبر کو پورے ملک سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
احتجاج کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائرکی گئی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر مقامات پر قبضے یا شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا قانونی اختیار نہیں۔
اس فیصلے کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ‘اس بار کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی نہیں کرنے دیں گے۔’



