چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ایف آئی آرز کے چھوٹے اور مبہم الفاظ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ پولیس پیپر کی بچت کرنے کے لیے 3 صفحے کا کام ایک صفحے پر کرتی ہے، اور چھوٹے فونٹ کی وجہ سے ہماری آنکھیں ضائع ہو گئی ہیں۔
ان ریمارکس کے ساتھ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پولیس کے انسپکڑ جنرل (آئی جی) کو صوبے بھر میں ایف آئی آرز کے اندراج کے لیے ایک ہی طرز کا مناسب فونٹ استعمال کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے یہ حکم چوہنگ پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی ایک درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایف آئی آر دیکھی ہے، یہ تو عینک لگا کر بھی نہیں پڑھی جا رہی، ہم ایف آئی آر پڑھیں گے یا اسے سمجھیں گے۔
چیف جسٹس نے ایف آئی آرز چھوٹے فونٹ میں پرنٹ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے اور یہ مسئلہ ایک کے بعد ایک مقدمے میں سامنے آ رہا ہے۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تین صفحوں کا کام ایک صفحے پر ہو گا تو فونٹ چھوٹا ہو گا، کہتے ہیں پیپر بچا رہے ہیں لیکن پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہو گئی ہیں، لہٰذا کم از کم ایک مناسب فونٹ رکھیں۔
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے چیئرمین کو فونٹ سائز بڑھانے کے لیے پہلے ہی خط لکھا جا چکا ہے۔
عدالت نے آئی جی کو پورے پنجاب میں ایک طرز کے فونٹ پر ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت کرتے ہوئے 29 ستمبر کو عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ یہ اتنا بڑا کام نہیں، ایک دو روز میں مکمل ہونا چاہیے۔



