اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مارچ پرامن ہو گا کسی کے پاس غلیل تک نہ ہو گی، پروگرام میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سنجیدہ حالات میں جب ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ کیا جا رہا ہے حکومت کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اسپیکر نے کس تناظر میں بات کی، انہوں نے ان کے عین الفاظ نہیں سنے، اس لیے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ میں آنے والے سیاسی کارکنوں کے خلاف نیٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں، سیاسی لوگوں پر نیٹ لانچر استعمال نہیں کیے جاتے بلکہ ان کی بات سنی جاتی ہے، شکایات کا ازالہ کیا جاتا اور انہیں انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کو انا کی جنگ بنا دیا گیا ہے، حکومت کو اپنی انا ایک طرف رکھ کر ایسا راستہ نکالنا ہوگا جس سے صورتحال میں سکون برقرار رہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ عوام اور قانون کے رکھوالے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی پرامن ہے اور اپنے حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھا رہی ہے، بارہا کہا گیا کہ ان کی بات سنی جائے، تاہم ان کے بقول انہیں نہ سنا گیا اور نہ انصاف دیا گیا۔
انہوں نے جنید اکبر کے بیان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مارچ پرامن ہو گا کسی کے پاس غلیل تک نہ ہو گی، رسیاں اور شیلنگ والی چیزیں نہیں ہوں گی، پرامن ہوں گے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو سسٹم سے کوئی مائنس نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ وزرا اپنی مرضی کے بیانات دے رہے ہیں لیکن کسی وزیر نے یہ نہیں کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کی بات سنی اور اسے انصاف دیا، پارٹی نے اپنا پروگرام بہت پہلے اعلان کر رکھا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے انتظامی امور میں صوبائی حکومت نے تبدیلی کی ہو گی، وزیراعلیٰ اس معاملے پر من مانی نہیں کر سکے گا قانون کے مطابق چلے گا۔
’سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ رہیں گے‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جہاں تک اعتماد کا تعلق ہے، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو ان پر اعتماد ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ رہیں گے اور انہیں پوری پارٹی کی حمایت حاصل ہے، یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خود مختار ہوتا ہے اور اس کے عوام، مینڈیٹ، وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کا احترام ہونا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کسی وزیر کا اپنے ہی صوبے میں لاپتہ ہونا یا کسی رکن اسمبلی کا سیاسی بنیادوں پر اپنے صوبے میں گرفتار ہونا معمول کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
’چیئرمین پی ٹی آئی کی اسلام آباد پر حملے کی تردید‘
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ حکومت کا ایک ٹولہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی آگے بڑھی تو اداروں اور اسلام آباد پر حملہ کرے گی، تاہم ان کے مطابق پارٹی پرامن تھی، پرامن ہے اور پرامن رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اداروں یا اسلام آباد پر حملہ نہیں کرے گی اور حکومت کو بھی اس حوالے سے پیدا کیے جانے والے تاثر کا سدباب کرنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کسی بڑی سیاسی جماعت کو سیاسی میدان سے نکالنے کی کوشش کرے گی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔



